خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 282

خطبات مسرور جلد 13 282 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء نشانات جانے دو۔مسجد مبارک کو ہی دیکھو۔مسجد مبارک میں ایک ستون مغرب سے مشرق کی طرف کھڑا ہے اس کے شمال میں جو حصہ مسجد کا ہے یہ اس زمانے کی مسجد تھی اور اس میں نماز کے وقت کبھی ایک اور کبھی دو سطریں ہوتی تھیں۔( یعنی صفیں ہوتی تھیں۔) اس ٹکڑے میں تین دیوار میں ہوتی تھیں۔ایک تو دو کھڑ کیوں والی جگہ اور اس حصے میں امام کھڑا ہوا کرتا تھا۔پھر جہاں ( آپ اس وقت بیان کر رہے تھے۔وہاں پرانا حصہ بھی محفوظ ہے ) اب ستون ہے وہاں ایک اور دیوار تھی اور ایک دروازہ تھا۔اس حصے میں صرف دو قطاریں نماز کی کھڑی ہو سکتی تھیں اور فی قطار ( یعنی فی صف ) غالباً پانچ سات آدمی کھڑے ہو سکتے تھے۔اس حصے میں کبھی ایک قطار نمازیوں کی ہوتی اور کبھی دو ہوتی تھیں۔(آپ فرماتے ہیں کہ ) مجھے یاد ہے جب اس حصہ مسجد سے نمازی بڑھے اور آخری یعنی تیسرے حصے میں نمازی کھڑے ہوئے تو ہماری حیرت کی کوئی حد نہ رہی۔گویا جب پندرہواں یا سولہواں نمازی آیا تو ہم حیران ہو کر کہنے لگے کہ اب تو بہت لوگ نماز میں آتے ہیں۔(آپ فرماتے ہیں کہ ) تم نے غالباً غور کر کے وہ جگہ نہیں دیکھی ہوگی ( بلکہ اب، آجکل بھی قادیان کے رہنے والوں نے غور نہیں کیا ہو گا ) مگر وہ ابھی تک موجود ہے۔جاؤ اور دیکھو۔(وہاں کے رہنے والے بھی اس بات پر غور کریں اور جو جلسہ پر جاتے ہیں یا ویسے سال کے دوران جاتے ہیں۔اب تو جاتے رہتے ہیں ، وہ بھی وہاں جا کر کھڑے ہوں اور تصور میں وہ پرانا زمانہ لے کر آئیں تو ایمان میں یقیناً تازگی پیدا ہوتی ہے۔) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں صحابہ کا طریق تھا کہ وہ پرانی باتوں کو کبھی کبھی عملی رنگ میں قائم کر کے بھی دیکھا کرتے تھے اس لئے تم بھی جا کر دیکھو۔اس حصے کو الگ کر دو جہاں امام کھڑا ہوتا تھا اور پھر وہاں فرضی دیوار میں قائم کرو اور پھر جو باقی جگہ بچے اس میں جو سطریں ہوں گی ان کا تصور کرو اور اس میں تیسری سطر قائم ہونے پر ہمیں جو حیرت ہوئی کہ کتنی بڑی کامیابی ہے اس کا قیاس کرو اور پھر سوچو کہ خدا تعالیٰ کے فضل جب نازل ہوں تو کیا سے کیا کر دیتے ہیں۔پھر اس تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے جو اپنوں میں بھی ہوئی۔یعنی کہ جو عزیز رشتے دار تھے ان میں بھی پھر بعد میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔پہلے مخالف تھے اور پھر وہ جماعت میں بھی شامل ہوئے۔آپ فرماتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ہمارا ایک کچا کوٹھا ہوتا تھا اور بچپن میں کبھی کبھی کھیلنے کے لئے بھی ہم اس پر چڑھ