خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 274

خطبات مسرور جلد 13 274 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015 ء حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں: کہ پس ہمارا اپنا بھائی بیٹا یا کوئی اور عزیز رشتے دار اگر مر جائے اور اس کی وفات کے متعلق خدا تعالیٰ کی پیشگوئی ہو تو رنج کے ساتھ اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہمیں خوشی بھی ہوگی۔خوشی کا یہ مطلب نہیں کہ ہم انہیں غیر سمجھتے ہیں۔ہم تو انہیں اپنا ہی سمجھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کو ان سے بھی زیادہ اپنا سمجھتے ہیں اور یہ ہمارے لئے ناممکن ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے کسی نشان کو چھپا ئیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا پر اپنی دونوں خوبیوں کو ظاہر کر دیں۔ایک طرف خدا تعالیٰ کے اس عظیم الشان قہری نشان کو ہم دنیا میں پھیلائیں اور لوگوں کو بتائیں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے لئے ظہور پذیر ہوا اور دوسری طرف مصیبت زدگان اور مجروحین کی امداد کریں۔( مطلب یہ ہے کہ جو مختلف آفات میں مرتے ہیں وہ بھی ہمارے اپنے ہی ہیں۔وہ بعض قہری نشانوں کی وجہ سے مر رہے ہیں جس کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود نے فرمائی۔تو ہمیں دوسروں کو یہ بتانا چاہئے ایک وجہ تو یہ ہے۔پھر فرمایا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے لئے ظہور پذیر ہوا اور دوسری طرف مصیبت زدگان اور مجروحین کی امداد کریں۔اب یہ نہیں ہے کہ اسی بات پر ہم خوش ہو جائیں کہ یہ لوگ نشان کے طور پر مر گئے بلکہ جو زخمی ہیں، جو مصیبت زدگان ہیں، جو آفت زدہ ہیں، جن کو تکلیفیں پہنچی ہیں اس نشان کے واقعہ ہونے کی وجہ سے ان کی امداد بھی کریں) تا دنیا سمجھے کہ ہم جہاں خدا تعالیٰ کا نشان ظاہر ہونے کے بعد اس کی اشاعت میں کسی مصیبت اور ملامت کی پرواہ نہیں کرتے وہاں ہم سے زیادہ ان کا خیر خواہ بھی کوئی نہیں ہے۔( اور اسی لئے جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ ان مصیبت زدوں کی امداد کرتی بھی ہے۔) اگر ہم اپنی ان دونوں خوبیوں کو ظاہر کریں گے تو اس وقت خدا کی بھی دونوں قدرتیں ہمارے لئے ظاہر ہوں گی۔وہ قدرت بھی جو آسمان سے اترتی ہے اور وہ قدرت بھی جو زمین سے ظاہر ہوتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 16 صفحہ 338-339 خطبہ جمعہ فرموده 7 جون 1935 ء) پس یہ واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔بچے کی خدمت، اس کے علاج کی فکر، اپنے قریبی ساتھی کی فکر، اس کے علاج کی طرف توجہ، پھر نشانات پورے ہونے پر خوشی کا بھی اظہار لیکن جب اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آگئی تو پھر ایسا اظہار کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور احباب جماعت کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی تلقین کہ اصل مقصد خدا تعالیٰ کی رضا ہے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہے اور جو اس نے خبریں دی ہیں ان کے پورا ہونے پر جہاں ایک طرف اطمینان ہے وہاں دوسری طرف انسانیت کو جہاں خدمت