خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 232

خطبات مسرور جلد 13 232 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اپریل 2015ء آتا۔یا بعض اور ایسی برائیاں ہوتی ہیں جو خدا کونا پسند ہیں یا ان کی نمازیں اور عبادتیں صرف دکھاوے کے لئے ہوتی ہیں۔پس جب یہ صورتحال ہو تو قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ کے زمرے میں کس طرح ایسے لوگ آ سکتے ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی بیان فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ایک بزرگ کا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ انہوں نے کئی سال تک باقاعدہ مسجد میں نمازیں پڑھیں تا کہ لوگ ان کی تعریف کریں لیکن خدا تعالیٰ نے ان کی کسی گزشتہ نیکی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ان کے متعلق یہ بات ڈال دی کہ سب لوگ انہیں منافق کہتے تھے۔( خواہش ان کی یہ تھی کہ لوگ تعریف کریں لیکن لوگ انہیں منافق کہتے تھے۔آخر ایک دن ان بزرگ کو خیال آیا کہ اتنی عمر ضائع ہو گئی۔کسی نے بھی مجھے نیک نہیں کہا۔اگر خدا کے لئے عبادت کرتا تو خدا تعالیٰ تو راضی ہو جاتا۔یہ خیال ان کے دل میں اتنے زور سے آیا کہ وہ اسی وقت جنگل میں چلے گئے۔روئے اور دعائیں کیں اور توبہ کی اور عہد کیا کہ خدا یا اب میں صرف تیری رضا کے لئے عبادت کیا کروں گا۔جب واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ یہ شخص ہے تو بہت ہی نیک مگر معلوم نہیں لوگوں نے اسے کیوں بدنام کر رکھا ہے اور بچے اور بوڑھے سب اس کی تعریف کرنے لگے۔اس بزرگ نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ خدا یا صرف ایک دن میں نے تیری رضا کی خاطر نماز پڑھی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے میری تعریف شروع کر دی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 705) اب دیکھیں احساس پیدا ہوتے ہی جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی عبادتوں کو ڈھالا یا خالص ہو کے عبادت کی جو اس کی خاطر کی جارہی تھی تو اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو گیا۔لیکن اب یہ کوئی خواہش نہیں رہی تھی کہ لوگ میری تعریف کریں مجھے بڑا بزرگ سمجھیں اور اب خواہش کے نہ ہونے کے باوجود لوگوں نے انہیں وہی کچھ کہنا شروع کر دیا جس کی وہ پہلے خواہش رکھتے تھے۔لوگ تعریف کرنے لگ گئے۔پہلے خواہش رکھتے تھے اور باوجود چاہنے کے کامیاب نہیں ہوئے تھے۔لیکن اب بالکل اور صورتحال ہوگئی اور لوگوں نے کہنا شروع کر دیا۔دوسرے اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض پرانی نیکیوں کی قدر کرتے ہوئے کسی کی اصلاح کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔یہ جو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی پرانی نیکی پسند آ گئی تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اس نیکی کی وجہ سے ان کولوگوں کے کہنے پر یہ احساس پیدا ہوا اور لوگوں کا انہیں پہلے منافق کہنا ان کی