خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 231
خطبات مسرور جلد 13 231 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اپریل 2015ء نمازوں میں خشوع پیدا کر نا رکھا ہے۔ان باتوں کے حصول کے لئے عبادت کر نا رکھا ہے۔عاجزی تو بعض دنیا دار بھی بعض دفعہ دکھا دیتے ہیں بلکہ صرف اگر گریہ وزاری کا سوال ہے تو بعض دنیا دار ذرا ذراسی بات پر ایسی گریہ وزاری کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ایسی جگہوں پر جہاں ان کے دنیاوی مفاد متاثر ہو رہے ہوں وہ ذلیل ترین ہونے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔یا عارضی طور پر جذبات کا اظہار بھی بعضوں سے ہوتا ہے۔بعض حالات دیکھ کر بعض لوگوں کی حالتیں دیکھ کر رحم بھی پیدا ہو جاتا ہے اور درد ناک حالت دیکھ کر ان میں انتہائی جذباتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن یہ سب یا تو اپنے مفادات کے لئے یا دنیا دکھاوے کے لئے یا ایک عارضی اور وقتی جذبے کے تحت ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا تو ان ظاہری باتوں سے بہت دُور ہوتا ہے۔دنیا داروں کی جذباتی حالت کے بارے میں یا ظاہری اور وقتی طور پر گریہ وزاری کا اظہار کرنے والوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ بیان فرمایا کہ: ” بہت سے ایسے فقیر میں نے بچشم خود دیکھے ہیں اور ایسا ہی بعض دوسرے لوگ بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ کسی درد ناک شعر کے پڑھنے یا دردناک نظارہ دیکھنے یا دردناک قصہ کے سننے سے اس جلدی سے ان کے آنسو گرنے شروع ہو جاتے ہیں جیسا کہ بعض بادل اس قدر جلدی سے اپنے موٹے موٹے قطرے برساتے ہیں کہ باہر سونے والوں کو رات کے وقت فرصت نہیں دیتے کہ اپنا بستر بغیر تر ہونے کے اندر لے جاسکیں ( یعنی جس طرح بارش ایک دم آ جاتی ہے اس طرح ایک دم ان کے آنسو بہنے لگ جاتے ہیں۔پھر فرمایا ) ولیکن میں اپنی ذاتی شہادت سے گواہی دیتا ہوں کہ اکثر ایسے شخص میں نے بڑے مگار بلکہ دنیا داروں سے آگے بڑھے ہوئے پائے ہیں اور بعض کو میں نے ایسے خبیث طبع اور بددیانت اور ہر پہلو سے بدمعاش پایا ہے کہ مجھے ان کی گریہ وزاری کی عادت اور خشوع خضوع کی خصلت دیکھ کر اس بات سے کراہت آتی ہے کہ کسی مجلس میں ایسی رقت اور سوز و گداز ظاہر کروں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 194) پس ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کے بعض نظارے دیکھ کر آنسو گرنے میں دیر نہیں لگتی لیکن یہ ایک وقتی جذ بہ ہوتا ہے۔جب اپنے مفادات ہوں تو پھر اس شخص میں کبھی یہ کیفیت پیدا نہیں ہوگی۔اگر ایک وقت میں ایک حالت کو دیکھے جہاں جذبات نہ ہوں، اپنے اپنے مفادات نہ ہوں تو وہ کیفیت پیدا ہوسکتی ہے لیکن جب اپنے مفادات ہوں تو کبھی وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ وہ ظلم بھی کر دیتا ہے اور کبھی رحم نہیں