خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 228

خطبات مسرور جلد 13 228 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ، درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر اور سکون عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ غائب ہے جو عزیزم وسیم احمد طالبعلم جامعہ احمدیہ قادیان کا ہے جو 25 / مارچ 2015ء کو دریائے بیاس میں ڈوب کر وفات پاگئے۔انا للہ وانا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔چار دن کی مسلسل کوشش اور تلاش کے بعد ڈوبنے کی جگہ سے تقریباً دوکلومیٹر دور جا کر مرحوم کی نعش الٹی پڑی ہوئی ملی۔مرحوم کے جسم پر کس قسم کا نشان نہیں تھا اور نہ ہی نعش پھولی ہوئی تھی اور نہ کسی قسم کی بد بو تھی۔پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائی کے بعد نعش کو بذریعہ ایمبولینس قادیان لایا گیا اور وہیں نماز ظہر سے قبل دو دن پہلے ان کا جنازہ پڑھا گیا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔مرحوم 23 راگست 1995 ء کو پیدا ہوئے۔صوبہ تلنگانہ سے ان کا تعلق تھا۔پیدائشی احمدی تھے۔ان کے دادا دیسی باشو میاں صاحب کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دور خلافت میں حضرت سیٹھ حسن احمد صاحب صحابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔عزیزم وسیم احمد مرحوم 2013 ء میں جامعہ قادیان میں تعلیم کی غرض سے وقف کر کے آئے اور اللہ کے فضل سے اچھے پڑھنے والے اور ہوشیار بچوں میں سے تھے۔انتہائی خوش مزاج اور دین کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے تھے۔جب یہ موسمی تعطیلات میں واپس اپنے گھر گئے تو غیر احمدی بچوں کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا ہو گیا۔ان کے والد فوت ہو چکے ہیں، والدہ بڑی پریشان ہوئیں کہ وہ اس کو در غلا نہ دیں۔اس پر وسیم احمد نے اپنی والدہ کو کہا کہ اب میں قادیان میں ایک سال تعلیم حاصل کر کے آیا ہوں۔میں اب ان غیر احمدی دوستوں کو جماعت کی تبلیغ کر رہا ہوں۔یہ میرے ہم عمر ہونے کی وجہ سے بات بھی سن رہے ہیں۔آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں احمدیت کے قبول کرنے کی توفیق دے۔باقی طلباء کہتے ہیں کہ ہمیشہ ہم نے دیکھا کہ ان کو تہجد کے لئے جب جگانے جاؤ تو یہ پہلے ہی تہجد پڑھ رہے ہوتے تھے۔ہمیشہ مسکرا کر بات کرنے والے۔مرحوم نے اپنے پیچھے اپنی والدہ محترمہ امتہ الحفیظ صاحبہ جو کہ کافی ضعیف ہیں اور اکثر بیمار رہتی ہیں اور دو بڑے بھائی چھوڑے ہیں جن میں سے ایک واقف زندگی ہیں اور بطور معلم کام کر رہے ہیں۔اور ان کی دو بہنیں ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے اور ان کی والدہ کو اور باقی لواحقین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 24 اپریل 2015 ء تا 30 اپریل 2015 ، جلد 22 شماره 17 صفحه 05 تا08)