خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 224
خطبات مسرور جلد 13 224 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء ضلالتوں میں پڑا رہا اور گناہوں میں گھرتا گیا حتی کہ خدا تعالیٰ نے بیعت کی توفیق دی اور میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ شروع کیا تو احساس ہوا کہ یہ میرے زخموں کا مرہم اور میری روح کا علاج ہیں اور مجھے اپنے تزکیہ نفس کی فکر پیدا ہوئی اور حضور انور کی خدمت میں اس غرض سے لکھنے کا احساس بیدار ہوا کہ خدا تعالیٰ مجھے صادقین میں لکھ لے۔شہادتوں کا پھل پھر جماعت میں جو شہادتیں ہوتی ہیں اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کس طرح تائید و نصرت فرماتا ہے۔اس بارہ میں جاپان سے ہمارے صدر جماعت لکھتے ہیں کہ شیخو پورہ میں جو خلیل احمد صاحب شہید ہوئے۔جب میں نے خطبہ میں ان کا ذکر کیا تو ایک جاپانی دوست جن کا چھ ماہ سے جماعت کے ساتھ اس لحاظ سے تعلق تھا کہ تبلیغ ان کو کیا کرتے تھے ان کا فون آیا کہ میں احمدی ہونا چاہتا ہوں تو میں نے انہیں مسجد میں بلالیا اور بیعت کی کارروائی ہوئی اور انہوں نے شہادت کے متعلق ان کا ذکر سن کے اس کے بعد بیعت کی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانی کے نظام میں شامل ہیں۔یاد گیر کے امیر صاحب ضلع لکھتے ہیں کہ شہر یاد گیر کے ایک نوجوان منجوناتھ جن کا تعلق ہندو مذہب سے تھا وہ بی ایس سی کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ان کے ساتھ ہی ہمارے ایک خادم بھی پڑھائی کر رہے تھے۔ایک دن ان کو نوٹس لکھنے کے لئے نوٹ بک کی ضرورت پڑی تو انہوں نے ہمارے خادم کی نوٹ بک لے لی جس پر انسانیت زندہ باد اور محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں لکھا ہوا تھا۔یہ پڑھ کر ان کے دل میں کافی اثر ہوا کہ اس زمانے میں جہاں اس قدر بدامنی پھیلی ہوئی ہے اس سے زیادہ پیارا پیغام دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا۔اس نعرہ نے ان کے دل پر بہت پیارا اثر چھوڑا اور مزید معلومات کے لئے موصوف نے ہمارے خادم سے احمدیت کے بارے میں پوچھا۔ان کو جماعت کا لٹریچر مہیا کر دیا گیا۔گہرے مطالعہ کے بعد ان کو اس بات کا علم ہوا کہ جماعت احمد یہ ایک منظم اور سچی جماعت ہے جو قیام امن کے لئے اور خدمت انسانیت کے لئے انتہا کی کوشش کر رہی ہے۔جماعت کے بارے میں کافی کچھ جاننے کے بعد ان کے دل کو تسلی ہو گئی اور موصوف نے مارچ 2014ء میں بیعت کر لی۔پس احمدیوں کے صرف نعرے نہیں بلکہ عملی حالتیں بھی ایسی ہونی چاہئیں کیونکہ یہ بھی تبلیغ کا ذریعہ بنتی ہیں۔کئی دفعہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں۔اس لئے صرف اپنی تعلیم کو بتانے سے اثر نہیں ہو گا لیکن حقیقت میں جب لوگ عمل بھی دیکھیں گے تو پھر ہی توجہ پیدا ہوگی۔اس لئے یہ بہت بڑی ذمہ داری ہر احمدی پر پڑتی ہے۔