خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 223
خطبات مسرور جلد 13 223 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء اموال کو لوٹ رہی تھیں۔(یہی حال سبھی دہشت گرد تنظیموں کا ہے جو اسلام کے نام پر کام کر رہی ہیں۔کہتے ہیں اور ہمارا کام ایسے لوگوں سے ان کے اموال کو بچانا تھا۔ہم اسلام سے کوسوں دور تھے مگر میں دعا کیا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس حالت سے نکالے۔مجھے اس بات پر سب سے زیادہ حیرت ہوتی تھی کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے اور وہ بھی جہاد اور اسلام کے نام پر ؟ کیا امام مہدی جب آئیں گے تو وہ بھی ایسے ہی قتل کا حکم دیں گے؟ مسلمان اپنے تمام تر اختلافات اور کفر کے فتووں کے باوجود ان کے ہاتھ پر کیسے اکٹھے ہو جائیں گے؟ کہتے ہیں۔میرے ایک پرانے دوست عباس صاحب جو اس وقت احمدی ہو چکے تھے مگر مجھے علم نہیں تھا وہ ایک مرتبہ مجھے ملے اور مختلف امور پر بات کی۔انہوں نے قرآن کریم کی ایسی تفسیر بیان کی جو پہلے کبھی نہ سنی تھی اور عقل کے عین مطابق تھی۔دل اس کو سن کر مطمئن ہوا۔انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک صدی پہلے امام مہدی کو ہندوستان میں مبعوث فرما دیا ہے اور انہیں قلم اور علم و معرفت کا ہتھیار دے کر بھیجا ہے جس کے ذریعے انہوں نے بڑے بڑے پادریوں کو شکست فاش سے دو چار کیا اور اب ان کی جماعت اسی راہ پر گامزن ہے۔یہ سن کر مجھے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعاؤں کو قبول فرما لیا ہے۔چنانچہ میں نے اسی وقت بیعت فارم پر کیا اور اس پیاری جماعت میں شامل ہو گیا۔کہتے ہیں اس کے چند دن بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک اندھیرے میدان میں رات کو چل رہا ہوں۔پھر ایک بزرگ نظر آتے ہیں جو میرا ہاتھ تھام کر چل پڑتے ہیں۔ہم سمندر کے کنارے پہنچتے ہیں تو وہاں ایک کشتی ہوتی ہے جس کے پاس ایک اور صاحب کھڑے نظر آتے ہیں جو ایسے لگتا ہے ہمارا ہی انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ہم تینوں اس میں سوار ہو جاتے ہیں۔میں دل میں سوچتا ہوں کہ یہ کون لوگ ہیں تو جو بزرگ مجھے ساتھ لائے تھے انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور یہ امام مہدی اور مسیح موعود مرزا غلام احمد علیہ السلام ہیں۔اس کے بعد یہ کشتی چلتے چلتے ایک بحری جہاز کے پاس پہنچ جاتی ہے تو وہ دونوں مجھ سے فرماتے ہیں اس بحری جہاز میں سوار ہو جاؤ اور اس جہاز کے سواروں کے ساتھ جا ملو وہ تمہارے حقیقی اہل خانہ ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام بھی کس طرح دلوں پر اثر ڈالتا ہے۔(اس کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔) مراکش کے عبدالعزیز صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں : میں تاریخ اور جغرافیہ کا استاد ہوں اور باوجود یکہ خدا تعالیٰ نے بڑی نعمتوں سے نوازا ہے میری ترقی بھی ہو گئی۔مکان بھی ہے۔لیکن میں نفس کی