خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 193

خطبات مسرور جلد 13 193 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015ء تھا وہ بڑھنا شروع ہوا حتی کہ آفتاب کا زیادہ حصہ تاریک ہو گیا۔تب حضور نے فرمایا کہ ہم نے آج خواب میں پیاز دیکھا تھا اس کی تعبیر غم ہوتی ہے۔سو شروع میں سیاہی کے خفیف رہنے سے تھوڑا ہلکا ساغم ہوالیکن اللہ تعالیٰ نے خوشی دکھائی۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد 1 صفحہ 92 تا 94 روایت حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب) گرہن کا نشان اور علماء کی پریشانی حضرت مولوی غلام رسول صاحب بیان فرماتے ہیں کہ 1894ء میں جب سورج گرہن اور چاند گرہن ہوا اس وقت میں لاہور میں مولوی حافظ عبدالمنان صاحب سے ترمذی شریف پڑھتا تھا۔علماء کی پریشانی اور گھبراہٹ نے میرے دل پر اثر کیا۔گو علماء لوگوں کو طفل تسلیاں دے رہے تھے مگر دل میں سخت خائف تھے کہ اس سچے نشان کی وجہ سے لوگوں کا بڑی تیزی سے حضرت اقدس کی طرف رجوع ہو گا۔ان دنوں حافظ محمد صاحب لکھو کے والے پتھری کا آپریشن کروانے کے لئے لاہور آئے ہوئے تھے۔میں بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ان سے جب عوام نے دریافت کیا کہ یہ نشان آپ نے اپنی کتاب احوال الاخرۃ میں واضح طور پر لکھا ہے اور مدعی حضرت مرزا صاحب بھی موجود ہیں اور اس نشان کو اپنا مؤید قرار دے رہے ہیں۔آپ اس بارے میں کیا مسلک اختیار فرماتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں بیمار اور سخت کمزور ہوں۔صحت کی درستی کے بعد کچھ کہہ سکوں گا۔البتہ اپنے لڑ کے عبدالرحمن محی الدین کو حضرت مرزا صاحب کی مخالفت سے روکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے راز عجیب ہوتے ہیں۔لیکن ( بہر حال ) وہ زندہ نہ رہ سکے اور جلد ہی راہی ملک عدم ہو گئے۔( یہ لکھنے والے کہتے ہیں ) ان باتوں سے گومیرا دل حضرت اقدس کی سچائی کے بارے میں مطمئن ہو چکا تھا لیکن علم حدیث کی تکمیل کی خاطر امرتسر چلا گیا اور وہاں دو تین سال رہ کر دورہ حدیث سے فراغت حاصل کر کے میں دارالامان میں حاضر ہو کر حضرت اقدس کی بیعت سے مشرف ہوا۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد 10 صفحہ 178 روایت حضرت مولوی غلام رسول صاحب) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بیان فرماتے ہیں کہ 1894ء کے رمضان المبارک میں مہدی آخرالزمان کے ظہور کی مشہور علامت کسوف و خسوف پوری ہوگئی۔وہ نظارہ آج تک میری آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ الفاظ میرے کانوں میں گونجتے سنائی دیتے ہیں جو ہمارے ہیڈ ماسٹر مولوی جمال الدین صاحب نے اس علامت کے پورا ہونے پر مدرسے کے کمرے کے اندر ساری جماعت کے سامنے ( یعنی کلاس کے سامنے ) کہے تھے کہ مہدی آخر الزمان کی اب تلاش کرنی چاہئے۔وہ ضرور کسی غار