خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 175
خطبات مسرور جلد 13 175 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015 ء احمدیوں کے اخلاص کے انوکھے انداز احمدیوں کے اخلاص کے انوکھے انداز اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کو پورا کرنے کی خواہش اور پھر احمدیت کی وجہ سے دشمنی کا سامنا اور احمدیت کی وجہ سے ہی دشمنی کا محبت میں بدل جانے کا ایک واقعہ حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ”مجھے اپنے بچپن کے زمانے میں ضلع گجرات کے لوگوں کا یہاں آنا یاد ہے ( یعنی قادیان آنا )۔اس وقت سیالکوٹ اور گجرات سلسلہ کے مرکز سمجھے جاتے تھے۔گورداسپور بہت پیچھے تھا کیونکہ قاعدہ ہے کہ نبی کی اپنے وطن میں زیادہ قدر نہیں ہوتی۔اس زمانے میں سیالکوٹ اول نمبر پر تھا اور گجرات دوسرے نمبر پر۔مجھے گجرات کے بہت سے آدمیوں کی شکلیں اب تک یاد ہیں۔مجھے یاد ہے کہ بہت سے اس اخلاص کی وجہ سے کہ تاوہ حضرت مسیح موعود الصلواۃ علیہ السلام کے اس الہام کو پورا کرنے والے نہیں کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فج عمیق۔نہ اس وجہ سے کہ انہیں مالی تنگی ہوتی ، پیدل چل کر قادیان آتے۔(مالی تنگی کی وجہ سے نہیں بلکہ الہام پورا کرنے کے لئے سیالکوٹ اور گجرات ، پیدل چل کر قادیان آتے تھے۔) ان میں بڑے بڑے مخلص تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا قرب رکھتے۔یہ بھی ضلع گجرات کے لوگوں کا ہی واقعہ ہے جو حافظ روشن علی صاحب مرحوم سنایا کرتے تھے اور میں بھی اس کا ذکر کر چکا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں ایک جماعت ایک طرف سے آ رہی تھی اور دوسری دوسری طرف سے ( پیدل چل کے آ رہے تھے )۔حافظ صاحب کہتے ہیں میں نے دیکھا وہ دونوں گروہ (جو ایک طرف سے آ رہا تھا، ایک دوسری طرف سے آ رہا تھا وہ دونوں گروہ) ایک دوسرے سے ملے اور رونے لگ گئے۔میں نے پوچھا تم کیوں روتے ہو؟ وہ کہنے لگے ایک حصہ ہم میں سے وہ ہے جو پہلے ایمان لایا۔( ان آنے والے دو گروپوں میں سے ایک حصہ وہ تھا جو پہلے ایمان لایا ) اور اس وجہ سے دوسرے حصے کی طرف سے اسے اس قدر دکھ دیا گیا۔(اسی علاقے کے رہنے والے تھے ) اور اتنی تکالیف پہنچائی گئیں کہ آخر وہ گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔پھر ہمیں ان کی کوئی خبر نہ تھی کہ کہاں چلے گئے۔کچھ عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے احمدیت کا نور ہم میں بھی پھیلایا اور ہم جو احمدیوں کو اپنے گھروں سے نکالنے والے تھے ( مخالفین تھے ) خود احمدی ہو گئے۔( پہلے بیعت کرنے والوں کو نکالنے کے بعد وہ بھی جو مخالفین تھے پھر احمدی ہو گئے۔) کہتے ہیں اب ہم یہاں جو پہنچے تو اتفاقاً اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہمارے وہ بھائی جنہیں ہم نے اپنے گھروں سے نکالا تھا دوسری طرف آنکلے۔جب ہم نے ان کو آتے دیکھا تو ہمارے دل اس درد کے جذبے سے پُر ہو گئے کہ یہ لوگ ہمیں ہدایت