خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 174
خطبات مسرور جلد 13 174 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015ء سینکڑوں خاکروب ان کے مرید ہو گئے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور ان کے بعض مرید بعض دفعہ یہاں بھی آجایا کرتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب ہمارے پیر کے پیر ہیں۔یہاں ہمارے ایک رشتے میں چانے محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت اور آپ کے دعوے کا تمسخر اڑانے کے لئے اپنے آپ کو چوہڑوں کا پیر مشہور کیا ہوا تھا۔(اور کچھ تو نہیں کر سکے چوہڑوں کا پیر مشہور کر دیا) اور ان کا دعویٰ تھا کہ میں لال بیگ ہوں (یعنی خاکروبوں کا پیشوا ہوں)۔ایک دفعہ بعض وہ لوگ جو خاکروب سے مسلمان ہو چکے تھے یہاں آئے ہوئے تھے۔انہیں حقہ کی عادت تھی۔( ان صاحب کی مجلس میں یعنی یہ جو اپنے آپ کو خاکروبوں کا پیر کہتے تھے ویسے مغل تھے۔ان صاحب کی مجلس میں ) جو انہوں نے حقہ دیکھا تو حقہ کی خاطر ان کے پاس جا بیٹھے۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) ہمارے (ان رشتے کے ) چچا نے ان سے مذہبی گفتگو شروع کر دی اور کہا کہ تم مرزا صاحب کے پاس کیوں آئے ہو؟ تم تو دراصل میرے مرید ہو۔مرزا صاحب نے تمہیں کیا دیا ہے۔وہ لوگ ان پڑھ تھے جیسے خاکروب عام طور پر ہوتے ہیں۔(اس زمانے کی بات ہے جب بیان کر رہے ہیں۔وہ بھی آج سے ستر سال پہلے کی۔) تو آپ فرماتے ہیں کہ آجکل تو پھر بھی خاکروب کچھ ہوشیار ہو گئے ہیں لیکن یہ آج سے چالیس سال پہلے کی بات ہے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی ) اس وقت یہ قوم بالکل ہی جاہل تھی۔لیکن جب ان سے ہمارے چچانے سوال کیا کہ مرزا صاحب نے تم کو کیا دیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اور تو کچھ نہیں جانتے لیکن اتنی بات پھر بھی سمجھ سکتے ہیں کہ لوگ پہلے ہم کو چوہڑے کہتے تھے لیکن مرزا صاحب سے تعلق کی وجہ سے اب ہمیں مرزائی کہتے ہیں۔گویا ہم چوہڑے تھے اب ان کے طفیل مرزا بن گئے۔لیکن آپ پہلے مرزا تھے اور مرزا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے چوہڑے بن گئے۔“ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں ”اب یہ باتیں ہیں تو بظاہر لطائف مگر ان کے اندر معرفت کا فلسفہ بھی موجود ہے۔ان ان پڑھ لوگوں نے اپنی زبان سے اس مفہوم کو ادا کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کے مخالفوں کو تباہ کر دیتا ہے اور ماننے والوں کو ترقی دیتا ہے۔پس سچی بات یہ ہے کہ احمدی ہوتے ہی انسان کی عقل مذہبی امور میں تیز ہو جاتی ہے اور وہ علماء پر بھی بھاری ہوتا ہے۔لیکن اس امر کو نظر انداز کر دو تو بھی کونسا ایسا احمدی ہے جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ اس کے طبقہ کے لوگ دنیا میں موجود نہیں بلکہ ہر احمدی اپنی عقل اور سمجھ میں کم سے کم اپنے طبقہ کے ہر عیسائی، ہندو، سکھ اور غیر احمدی سے زیادہ ہوشیار ہوگا ( یعنی مذہبی امور میں )۔(خطبات محمود جلد 16 صفحہ 797-798۔خطبہ جمعہ فرمودہ 13 دسمبر 1935 ء)