خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 173
خطبات مسرور جلد 13 173 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015 ء سینے روشن کر کے بڑھا رہی ہے۔مخالفت سے ترقی ہوتی ہے پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ مخالفت بھی ہدایت کا موجب ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ”جب مخالفت ترقی کرتی ہے تو جماعت کو بھی ترقی حاصل ہوتی ہے اور جب مخالفت بڑھتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائیدات اور نصرتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں جب کوئی دوست یہ ذکر کرتے کہ ہمارے ہاں بڑی مخالفت ہے تو آپ فرماتے یہ تمہاری ترقی کی علامت ہے۔جہاں مخالفت ہوتی ہے وہاں جماعت بھی بڑھتی ہے کیونکہ مخالفت کے نتیجے میں کئی ناواقف لوگوں کو بھی سلسلے سے واقفیت ہو جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ ان کے دل میں سلسلے کی کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے اور جب وہ کتابیں پڑھتے ہیں تو صداقت ان کے دلوں کو موہ لیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی خدمت میں ایک دفعہ ایک دوست حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کی بیعت کی۔بیعت لینے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے ان سے دریافت فرمایا کہ آپ کو کس نے تبلیغ کی تھی۔وہ بے ساختہ کہنے لگے مجھے تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے تبلیغ کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حیرت سے فرما یا وہ کس طرح؟ وہ کہنے لگے کہ میں مولوی صاحب کا اخبار اور ان کی کتابیں پڑھا کرتا تھا اور میں ہمیشہ دیکھتا کہ ان میں جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت ہوتی تھی۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ میں خود بھی تو اس سلسلے کی کتابیں دیکھوں کہ ان میں کیا لکھا ہے۔اور جب میں نے ان کتابوں کو پڑھنا شروع کیا تو میرا سینہ کھل گیا اور میں بیعت کے لئے تیار ہو گیا۔تو مخالفت کا پہلا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے البی سلسلہ کوترقی حاصل ہوتی ہے اور کئی لوگوں کو ہدایت میسر آ جاتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد 6صفحہ 487) آج بھی مخالفین کی مخالفتیں لوگوں کے سینے کھولنے کا باعث بن رہی ہیں۔اکثر مبلغین کی رپورٹوں میں بھی یہ ذکر ہوتا ہے اور کئی خط مجھے براہ راست بھی آتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے جماعت سے تعارف حاصل کیا۔حضرت مصلح موعود یہ بیان فرماتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ احمدی ہونے کے بعد ایک ان پڑھ کو بھی کس طرح عقل دے دیتا ہے اور وہ حاضر جواب ہو جاتا ہے، ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ لدھیانہ کے علاقے کے ایک شخص میاں نور محمد صاحب تھے۔انہوں نے ادنی اقوام میں تبلیغ اسلام کا بیڑہ اٹھایا ہوا تھا۔وہ خاکروبوں میں ( صفائی کرنے والوں میں جن میں سے اکثریت عیسائی بھی تھی ) تبلیغ کیا کرتے تھے۔اور