خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 171
خطبات مسرور جلد 13 171 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015ء آسمان پر زندہ چلے گئے ہیں تو کیا آپ مان جائیں گے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ سینکڑوں آیات کا تو ذکر کیا اگر آپ ایک ہی آیت مجھے ایسی دکھا دیں تو میں مان لوں گا۔کہنے لگے الحمد للہ۔میں لوگوں سے یہی بخشیں کرتا آیا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب سے منوانا تو مشکل بات نہیں یونہی لوگ شور مچا رہے ہیں۔پھر کہنے لگے اچھا سینکڑوں نہ سہی میں اگر ایک سو آیتیں ہی حیات مسیح کے ثبوت میں پیش کر دوں تو کیا آپ مان لیں گے؟ آپ نے فرمایا میں نے تو کہہ دیا ہے کہ اگر آپ ایک ہی آیت ایسی پیش کر دیں گئے تو میں مان لوں گا۔قرآن مجید کی جس طرح سو آئیتوں پر عمل کرنا ضروری ہے اسی طرح اس کے ایک ایک لفظ پر عمل کرنا ضروری ہے۔ایک یا سو آیتوں کا سوال ہی نہیں ہے۔کہنے لگے اچھا۔سو نہ سہی پچاس آیتیں اگر میں پیش کر دوں تو کیا آپ کا وعدہ رہا کہ آپ اپنی باتیں چھوڑ دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر فرمایا میں تو کہہ چکا ہوں کہ آپ ایک ہی آیت پیش کریں میں ماننے کے لئے تیار ہوں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جوں جوں اس امر پر پختگی کا اظہار کرتے جائیں انہیں شبہ ہوتا جائے کہ شاید اتنی آیتیں قرآن کریم میں نہ ہوں۔آخر کہنے لگے کہ اچھا دس آیتیں اگر میں پیش کر دوں تو پھر تو آپ ضرور مان جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہنس پڑے اور فرمایا میں تو اپنی پہلی بات پر ہی قائم ہوں۔آپ ایک آیت ہی ایسی پیش کریں۔کہنے لگے اچھا میں اب جاتا ہوں۔چار پانچ دنوں تک آؤں گا اور آپ کو قرآن سے ایسی آیتیں دکھلا دوں گا۔ان دنوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لاہور میں تھے اور حضرت خلیفہ اول بھی وہیں تھے اور مولوی محمد حسین بٹالوی سے اس وقت مباحثے کے لئے شرائط کا تصفیہ ہورہا تھا۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ مباحثہ ہونا تھا اس کا تصفیہ حضرت خلیفہ اول اور مولوی محمد حسین کے درمیان ہو رہا تھا) جس کے لئے آپس میں خط و کتابت بھی ہو رہی تھی۔مباحثے کا موضوع وفات مسیح تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ کہتے تھے کہ چونکہ قرآن مجید کی مفتر حدیث ہے اس لئے جب حدیثوں سے کوئی بات ثابت ہو جائے تو وہ قرآن مجید کی ہی بات سمجھی جائے گی اس لئے حدیثوں کی رُو سے وفات وحیات مسیح پر بحث ہونی چاہئے۔اور حضرت مولوی صاحب فرماتے ( یعنی خلیفہ اول) کہ قرآن مجید حدیث پر مقدم ہے اس لئے بہر صورت قرآن سے اپنے مدعا کو ثابت کرنا ہو گا۔اس پر بہت دنوں تک بحث رہی اور بحث و مختصر کرنے کے لئے اور اس لئے کہ تا کسی نہ کسی طرح مولوی محمد حسین بٹالوی سے مباحثہ ہو جائے حضرت خلیفہ اول اس کی بہت سی باتوں کو تسلیم کرتے چلے گئے۔اور مولوی محمد حسین صاحب بہت خوش تھے کہ جو شرائط میں منوانا