خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 170
خطبات مسرور جلد 13 170 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015ء پس دعوت الی اللہ کے لئے ضروری نہیں کہ علمی بحثوں اور بڑے بڑے سیمیناروں اور فنکشنوں کا سہارا لیا جائے۔حالات کے مطابق طریق نکالنے چاہئیں۔اس زمانے میں بھی بہت سے احمدی ایسے ہیں جو اپنے طور پر تبلیغ کے طریقے نکالتے ہیں اور اللہ کے فضل سے بڑے کامیاب ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے ایک مشترک دوست کا ایک واقعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔آپ کے ایک دوست تھے جو مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھی دوست تھے۔ان کا نام نظام الدین تھا۔انہوں نے سات حج کئے تھے۔بہت ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے۔چونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور مولوی محمد حسین بٹالوی دونوں سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔اس لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی ماموریت کیا اور مولوی محمد حسین بٹالوی نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا تو ان کے دل کو بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیکی پر بہت یقین تھا۔وہ لدھیانہ میں رہا کرتے تھے اور مخالف لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف کچھ کہتے تو وہ ان سے جھگڑ پڑتے اور کہتے کہ تم پہلے حضرت مرزا صاحب کی حالت کو تو جا کر دیکھو۔وہ تو بہت ہی نیک آدمی ہیں اور میں نے ان کے پاس رہ کر دیکھا ہے کہ اگر انہیں ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن شریف سے کوئی بات سمجھا دی جائے تو وہ فوراما ننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔وہ فریب ہر گز نہیں کرتے۔اگر انہیں قرآن سے سمجھا دیا جائے کہ ان کا دعوی غلط ہے تو مجھے یقین ہے کہ وہ فورا مان جائیں گے۔بہت دفعہ وہ لوگوں کے ساتھ اس امر پر جھگڑتے اور کہا کرتے کہ جب میں قادیان جاؤں گا تو دیکھوں گا کہ وہ کس طرح اپنے دعویٰ سے تو بہ نہیں کرتے۔( یہ کہنے لگے کہ ) میں قرآن کھول کر ان کے سامنے رکھ دوں گا ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے ) اور جس وقت قرآن کی کوئی آیت حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے کے متعلق بتاؤں گا وہ فورامان جائیں گے۔میں خوب جانتا ہوں کہ وہ قرآن کی بات سن کر پھر کچھ نہیں کہا کرتے۔آخر ایک دن انہیں خیال آیا اور لدھیانہ سے قادیان پہنچے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور قرآن سے انکار کر دیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ کس طرح ہو سکتا ہے قرآن کو تو میں مانتا ہوں اور اسلام میرا مذہب ہے۔کہنے لگے الحمد للہ۔میں لوگوں سے یہی کہتا رہتا ہوں کہ وہ قرآن کو چھوڑ ہی نہیں سکتے۔پھر کہنے لگے اچھا اگر میں قرآن مجید سے سینکڑوں آیتیں اس امر کے ثبوت میں دکھا دوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام