خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 169
خطبات مسرور جلد 13 تبلیغ کے طریق 169 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015 ء پھر تبلیغ کے حوالے سے ہی آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی کے تبلیغ کے طریق کو بیان فرماتے ہیں کہ میاں شیر محمد صاحب ان پڑھ آدمی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے تھے۔وہ فنافی الدین قسم کے آدمیوں میں سے تھے۔یکہ چلاتے تھے۔غالباً پھلور سے ( یہ جگہ کا نام ہے ) سواریاں لے کر بنگہ جاتے تھے۔ان کا طریق تھا کہ سواری کو یتے میں بٹھا لیتے اور یکہ چلاتے جاتے اور سواریوں سے گفتگو شروع کر لیتے۔اخبار الحکم منگواتے تھے۔جیب سے اخبار نکال لیتے اور سواریوں سے پوچھتے آپ میں سے کوئی پڑھا ہوا ہے؟ اگر کوئی پڑھا ہوا ہوتا، اسے کہتے کہ یہ اخبار میرے نام آئی ہے۔ذرا اس کو سناتو دیجئے۔یکہ میں بیٹھا ہوا آدمی جھٹکے کھاتا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے کوئی شغل مل جائے۔وہ خوشی سے پڑھ کرسنانا شروع کر دیتا ہے۔جب وہ اخبار پڑھنا شروع کرتا تو وہ (یعنی یہ خود میاں شیر محمد صاحب) جرح شروع کر دیتے کہ یہ کیا لکھا ہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ اور اس طرح جرح کرتے کہ اس کے ذہن ( یعنی پڑھنے والے کے ذہن کو جو احمدی نہیں ہوتا تھا ) سوچ کر جواب دینا پڑتا اور بات اچھی طرح اس کے ذہن نشین ہو جاتی۔(حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) یہ واقعہ انہوں نے مجھے سنایا تھا تو اس وقت تک (صرف الفضل یا الحکم پڑھانے کے ذریعہ سے ) ان کے ذریعے درجن سے زیادہ احمدی ہو چکے تھے۔اس کے بعد بھی وہ کئی سال تک زندہ رہے۔نامعلوم کتنے آدمی ان کے ذریعہ اسی طریق پر احمدیت میں داخل ہوئے۔غرض ضروری نہیں کہ ہمیں کام شروع کرنے کے لئے بڑے عالم آدمیوں کی ضرورت ہے بلکہ ایسے علاقوں میں جہاں کوئی پڑھا ہوا آدمی نہیں مل سکتا اگر ان پڑھ احمدی مل جائے تو ان پڑھ ہی ہمارے پاس بھجوا دیا جائے اس کو زبانی مسائل سمجھائے جاسکتے ہیں۔( بعض جو چھوٹی جماعتیں ہیں ، دُور کی جماعتیں ہیں ان کے لئے خاص ہدایت ہے تا کام شروع ہو جائے۔) اگر ہم اس انتظار میں رہیں کہ عالم آدمی ملیں تو نامعلوم ان کے آنے تک کتنا زمانہ گزر جائے گا؟ ابھی بھی باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جامعات میں بڑی خاصی تعداد مر تبیان کی آ رہی ہے لیکن پھر بھی مستقبل قریب میں ضرورت پوری نہیں ہوسکتی۔) کیونکہ علماء کو مذہب کی باریکیوں میں جانا پڑتا ہے اس لئے ان کو علم حاصل کرنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے لیکن باوجود اس کے کہ مذہب میں باریکیاں ہوتی ہیں ان کو سیکھنے کے لئے ایک لمبے عرصے کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے متعلق فرمایا۔آپ فرماتے ہیں کہ الدین یسٹر کہ دین آسانی کا نام ہے۔(ماخوذ از الفضل قادیان مورخه 7 نومبر 1945 صفحہ 3 جلد 33 نمبر 261)