خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 159
خطبات مسرور جلد 13 159 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مارچ2015ء حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ نتائج پر یا کل پر نظر رکھنے کا خیال کس طرح پیدا ہو، کس طرح نظر رکھی جائے۔اس کے لئے آپ فرماتے ہیں کہ اس بات پر ایمان رکھے کہ وَاللهُ خَبِير بما تَعْمَلُونَ۔جو کام تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔انسان اگر یہ یقین کرے کہ کوئی خبیر علیم بادشاہ ہے جو ہر قسم کی بدکاری ، دعا، فریب، سستی اور کاہلی کو دیکھتا ہے اور اس کا۔66 بدلہ دے گا تو وہ بیچ سکتا ہے۔آپ نے فرمایا ”ایسا ایمان پیدا کرو۔بہت سے لوگ ہیں جو اپنے فرائض نوکری، حرفه، مزدوری وغیرہ میں سستی کرتے ہیں۔ایسا کرنے سے رزق حلال نہیں رہتا۔( حقائق الفرقان جلد 4 صفحه 67-68) اپنے کل کو برباد نہ کریں یعنی دنیاوی معاملات میں بھی جو سستی کرتے ہیں اور ان کا حق ادا نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے بھی اپنی کل کو برباد کر لیا اور اپنا رزق جو انہوں نے حاصل کیا وہ بھی حلال نہیں رہا۔یہ دھو کے کا رزق ہے۔پس یہ آیت جو اپنے کل پر نظر رکھنے کی طرف توجہ دلا رہی ہے بڑی وسعت رکھتی ہے اور ہر قدم پر ایک حقیقی مومن کے پاؤں پکڑ کر کسی بھی معمولی کمزوری اور گناہ کی طرف بڑھنے سے روکتی ہے۔پس یہ یقین ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس یقین پر ہم قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور پھر اس بات پر بھی یقین کہ وہ ہمارے ہر قسم کے دھوکے، فریب چاہے وہ ہم معمولی سمجھ کر تھوڑا سا منافع کمانے کے لئے کر رہے ہیں یا اپنے کام میں سستی دکھا رہے ہیں یا معاہدے کے مطابق اس نیت سے جان بوجھ کر کام ختم نہیں کر رہے کہ شاید کسی کو دباؤ میں لا کر مزید مفاد اٹھا سکیں تو یاد رکھیں ایسی باتیں خدا تعالیٰ کو پسند نہیں۔اور جب خدا تعالیٰ کو پسند نہیں تو پھر جیسا کہ حضرت خلیفہ اول نے بھی فرمایا کہ اس کا بدلہ ہو گا اور اس کا بدلہ پھر سزا کی صورت میں ہی ہے۔پس مومن کو کل پر نظر رکھنے کا کہہ کر اپنے معمولی گھریلو معاملات سے لے کر اپنے معاشرتی، کاروباری ہلکی ، بین الاقوامی تمام معاملات میں تقویٰ پر چلنے کی طرف توجہ دلا دی اور جو تقویٰ پر نہیں چلتا وہ پھر اس بات کو بھی ذہن میں رکھے کہ ایسا انسان خدا کی پکڑ میں آئے گا۔انسان کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ دنیاوی معاملات کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔مومن کے لئے تقویٰ پر چلنے کا حکم ہے اور تقویٰ میں تمام دینی اور دنیاوی کاموں کو خدا تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق بجالانا ضروری ہے۔انسان بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ