خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 155

خطبات مسرور جلد 13 155 10 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 مارچ2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 06 / مارچ 2015 ء بمطابق 06 امان 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی : یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ۔وَاتَّقُوا اللهَ إنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ۔أَوْلَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (الحشر:19-20) یہ سورہ حشر کی دو آیات ہیں جن کا ترجمہ اس طرح پر ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کر دیا۔یہی بدکردار لوگ ہیں۔عموماً دیکھا جاتا ہے کہ ہر برائی اور گناہ کی جڑ ان برائیوں اور گناہوں کو معمولی سمجھتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش نہ کرنا ہے یا ان پر توجہ نہ دینا ہے لیکن یہی بے احتیاطی پھر انسان کو بڑے گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہے کیونکہ پھر انسان آہستہ آہستہ نیکیوں کو بھول جاتا ہے نیکی کے ان معیاروں کو بھول جاتا ہے جو ایک مومن کو حاصل کرنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کا خوف کم ہو جاتا ہے۔تقویٰ سے دوری ہو جاتی ہے۔مرنے کے بعد کی زندگی پر کامل ایمان نہیں رہتا۔گویا کہ ایک ایمان کا دعوی کرنے والا عملاً ایمان کی شرائط سے دُور ہٹتا چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں پھر مومن نہیں رہتا۔ان آیات