خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 121
خطبات مسرور جلد 13 121 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے تو اور نگزیب بھی اپنے زمانے کا مجددنظر آتا ہے۔مگر کیا اس نے کوئی دعویٰ کیا ؟ عمر بن عبد العزیز کو مجدد کہا جاتا ہے۔کیا ان کا کوئی دعوی ہے؟ پس غیر مامور کے لئے دعوی ضروری نہیں۔دعویٰ صرف مامورین کے متعلق پیشگوئیوں میں ضروری ہے۔غیر مامور کے صرف کام کو دیکھنا چاہئے۔اگر کام پورا ہوتا نظر آ جائے تو پھر اس کے دعوی کی کیا ضرورت ہے۔اس صورت میں تو وہ انکار بھی کرتا جائے تو ہم کہیں گے کہ وہی اس پیشگوئی کا مصداق ہے۔اگر عمر بن عبدالعزیز مجدد ہونے سے انکار بھی کرتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ اپنے زمانے کے مجدد ہیں کیونکہ مجدد کے لئے کسی دعوی کی ضرورت نہیں۔دعویٰ صرف ان مجددین کے لئے ضروری ہے جو مامور ہوں۔ہاں جو غیر مامور اپنے زمانے میں گرتے ہوئے اسلام کو کھڑا کر دے، دشمن کے حملوں کو توڑ دے، اسے چاہے پتا بھی نہ ہو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجدد ہے۔( مجدد کا کام اسلام میں کیا ہے؟ یہی کہ جو اسلام کی گرتی ہوئی ساکھ کو تعلیم کو کھڑا کر دے،اس کے دشمن کے حملوں کو اسلام کے خلاف توڑ دے وہ مجدد ہے۔فرمایا کہ ) ہاں مامور مجد دوہی ہوسکتا ہے جو دعوی کرے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہے۔پس میری طرف سے مصلح موعود ہونے کے دعویٰ کی کوئی ضرورت نہیں اور مخالفوں کی ایسی باتوں سے گھبراہٹ کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔اس میں کوئی ہنک کی بات نہیں۔اصل عزت وہی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے چاہے دنیا کی نظروں میں انسان ذلیل سمجھا جائے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے رستے پر چلے تو اس کی درگاہ میں وہ ضرور معزز ہوگا۔اور اگر کوئی شخص جھوٹ سے کام لے کر اپنے غلط دعوے کو ثابت بھی کر دے اور اپنی چستی یا چالاکی سے لوگوں میں غلبہ بھی حاصل کر لے تو خدا تعالی کی درگاہ میں وہ عزت حاصل نہیں کر سکتا۔اور جسے خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت حاصل نہیں وہ خواہ ظاہری لحاظ سے کتنا معزز کیوں نہ سمجھا جائے اس نے کچھ کھویا ہی ہے، حاصل نہیں کیا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 21 صفحہ 59-60) اور آخر ایک دن وہ ذلیل ہوکر رہے گا۔پھر 1944ء میں جب آپ نے دعوی کیا اور حضرت مصلح موعود ہونے کا اعلان کیا تو آپ نے فرمایا : ہماری جماعت کے دوستوں نے یہ اور اسی قسم کی دوسری پیشگوئیاں بار بار میرے سامنے رکھیں اور اصرار کیا کہ میں ان کا اپنے آپ کو مصداق ظاہر کروں۔( جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ) مگر میں نے انہیں ہمیشہ یہی کہا کہ پیشگوئی اپنے مصداق کو آپ ظاہر کرتی ہے۔اگر یہ پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں تو زمانہ خود بخود گواہی دے دے گا کہ ان پیشگوئیوں کا میں مصداق ہوں اور اگر میرے متعلق نہیں تو زمانے کی گواہی میرے خلاف ہوگی۔دونوں صورتوں میں مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر یہ پیشگوئیاں میرے متعلق