خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 117
خطبات مسرور جلد 13 117 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015 ء جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے ساتھ میری رؤیا کو ہیں۔(ایک رؤیا آپ نے دیکھی تھی جیسا کہ میں نے کہا۔فرماتے ہیں کہ ) رویا میں میں نے دیکھا کہ میری زبان پر یہ فقرہ جاری ہوا کہ آنا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ مَثِيْلُهُ وَخَلِيفَتُه - ان الفاظ کا میری زبان پر جاری ہونا میرے لئے اس قدر عجوبہ تھا۔( ظاہر میں تو یہ حیرت انگیز عجوبہ ہوہی سکتا ہے لیکن خواب میں ہی میری ایسی کیفیت ہو گئی ) کہ قریب تھا اس تہلکہ سے میں جاگ اٹھتا کہ میرے منہ سے یہ کیا الفاظ نکل گئے ہیں۔بعد میں بعض دوستوں نے توجہ دلائی کہ مسیحی نفس ہونے کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اشتہار مؤرخہ 20 فروری 1886ء میں بھی آتا ہے۔گو اُس روز میں یہ اشتہار پڑھ کر آیا تھا لیکن جب میں خطبہ پڑھ رہا تھا اس وقت اشتہار کے یہ الفاظ میرے ذہن میں نہ تھے۔خطبے کے بعد غالباً دوسرے دن مولوی سید سرور شاہ صاحب نے یہ توجہ دلائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اشتہار میں بھی لکھا ہے کہ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔اس پیشگوئی میں بھی مسیح کا لفظ استعمال ہوا ہے۔دوسرے میں نے رؤیا دیکھا کہ میں نے بت تڑوائے ہیں۔اس کا اشارہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کے دوسرے حصہ میں پایا جاتا ہے کہ وہ روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔فرماتے ہیں کہ روح الحق توحید کی روح کو کہا جاتا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ اصل چیز خدا تعالیٰ کا وجود ہی ہے، باقی سب چیزیں اظلال اور سائے ہیں۔پس روح الحق سے مراد توحید کی روح ہے جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ اس کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔تیسرے میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں بھاگ رہا ہوں۔چنانچہ خطبہ میں میں نے ذکر کیا تھا کہ رویا میں یہی نہیں کہ میں تیزی سے چلتا ہوں بلکہ دوڑتا ہوں اور زمین میرے قدموں کے تلے سمٹتی چلی جاتی ہے۔پسر موعود کی پیشگوئی میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔اسی طرح رویا میں میں نے دیکھا کہ میں بعض غیر ملکوں کی طرف گیا ہوں اور پھر وہاں بھی میں نے اپنے کام کوختم نہیں کیا بلکہ میں اور آگے جانے کا ارادہ کر رہا ہوں۔جیسے میں نے کہا اے عبدالشکور ! اب میں آگے جاؤں گا اور جب اس سفر سے واپس آؤں گا تو دیکھوں گا کہ اس عرصے میں تونے تو حید کو قائم کر دیا ہے، شرک کو مٹا دیا ہے اور اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اللہ تعالیٰ نے جو کلام نازل فرمایا اس میں بھی اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ لکھا ہے وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔یہ الفاظ بھی اس کے دُور دُور جانے اور چلتے چلے جانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔