خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 116

خطبات مسرور جلد 13 116 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام اپنے اندر نشان نمائی کی کوئی طاقت نہیں رکھتا۔چنانچہ پنڈت لیکھرام اعتراض کر رہا تھا کہ اگر اسلام سچا ہے تو نشان دکھایا جائے۔اندر من اعتراض کر رہا تھا کہ اگر اسلام سچا ہے تو نشان دکھایا جائے۔آپ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خدا! تو ایسا نشان دکھا جو ان نشان طلب کرنے والوں کو اسلام کا قائل کر دے۔تو ایسا نشان دکھانا تھا جو اندر من مراد آبادی وغیرہ کو اسلام کا قائل کر دے۔اور یہ معترض ہمیں بتاتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی تو خدا نے آپ کو یہ خبر دی کہ آج سے تین سو سال کے بعد ہم تمہیں ایک بیٹا عطا فرمائیں گے جو اسلام کی صداقت کا نشان ہو گا۔کیا دنیا میں کوئی بھی شخص ہے جو اس بات کو معقول قرار دے سکتا ہے؟ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص سخت پیاسا ہو اور کسی شخص کے دروازے پر جائے اور کہے بھائی مجھے سخت پیاس لگی ہوئی ہے، خدا کے لئے مجھے پانی پلاؤ۔اور وہ آگے سے یہ جواب دے کہ صاحب آپ گھبرائیں نہیں۔میں نے امریکہ خط لکھا ہوا ہے۔وہاں سے اسی سال کے آخر تک ایک اعلیٰ درجے کا ایسنس (T(essence جائے گا اور اگلے سال آپ کو شربت بنا کر پلا دیا جائے گا۔کوئی پاگل سے پاگل بھی ایسی بات نہیں کر سکتا۔کوئی پاگل سے پاگل بھی ایسی بات خدا اور اس کے رسول کی طرف منسوب نہیں کرسکتا۔پنڈت لیکھرام منشی اندر متن مراد آبادی اور قادیان کے ہندو یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کے متعلق یہ دعوی کہ اس کا خداد نیا کو نشان دکھانے کی طاقت رکھتا ہے ایک جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔اگر اس دعوے میں کوئی حقیقت ہے تو ہمیں نشان دکھایا جائے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خدا! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے رحمت کا نشان دکھا تو مجھے قدرت اور قربت کا نشان عطا فرما۔پس یہ نشان تو ایسے قریب ترین عرصے میں ظاہر ہونا چاہئے تھا جبکہ وہ لوگ زندہ موجود ہوتے جنہوں نے یہ نشان طلب کیا تھا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔1889ء میں جب میری پیدائش اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہوئی تو وہ لوگ زندہ موجود تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نشان مانگا تھا۔پھر جوں جوں میں بڑھا اللہ تعالیٰ کے نشانات زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوتے چلے گئے۔(ماخوذ از ” میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں“۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 222-223) حضرت مصلح موعودؓ کا ایک رویا اپنی ایک رؤیا کا ذکر فرماتے ہوئے کہ کس طرح یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی مصلح موعود پر منطبق ہوتی ہے، حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ دیں ان مشابہتوں کو بیان کرتا ہوں