خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 104

خطبات مسرور جلد 13 104 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015 ء ہے کہ ہم غیر احمدیوں کی غلطیوں پر ہمیشہ نظر رکھیں کیونکہ نظر رکھ کر ہی ہم اپنے اندر ان غلطیوں کو داخل ہونے سے روک سکتے ہیں اور قومی نقائص سے بچ سکتے ہیں۔پھر اس چیز پر بھی ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہمارے اردگرد جو دوسرے مذاہب یا کسی بھی طرح کے لوگ بستے ہیں چاہے کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے ،کسی مذہب پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے ، خدا کو مانتے ہیں یا نہیں مانتے اُن میں کون کون سے قومی نقائص ہیں۔: (ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحہ 76-77) ماحول کے بھیانک اثرات اور نظام جماعت کا فرض اس دائرے کو ساتھ کے ملکوں کے قومی نقائص تک بھی وسعت دینی چاہئے بلکہ اب تو دنیا اس قدر قریب ہوگئی ہے کہ تمام دنیا کے رہنے والے ایک دوسرے کی ہمسائیگی کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔یعنی وہ فاصلوں کی دُوری رہی نہیں اور پھر اس کے علاوہ میڈیا نے بھی دوریاں ختم کر دی ہیں۔ان کی خوبیاں اور خامیاں سب ہمیں نظر آ جاتی ہیں اور ہمسایہ ملکوں کے اثر ایک دوسرے پر پڑتے رہتے ہیں۔بچے جس ماحول میں رہتے ہیں اس ماحول کے ہمسایوں کا اثر بھی ان بچوں پر ہورہا ہوتا ہے۔ماں باپ چاہے بچوں کو سکھاتے رہیں لیکن جہاں بھی کمزوری ہوتی ہے اس سکھانے کے باوجود بھی ماحول کا اثر ہو جاتا ہے۔پھر یہ بھی ہے کہ بچوں نے زیادہ وقت سکول میں اور اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ کھیلنے میں گزارنا ہے یا گھروں میں خود ہی اس زمانے میں ایسے دوست مل جاتے ہیں جو ٹی وی کے ذریعے سے داخل ہو گئے ہیں جو بچوں اور بڑوں سب پر یکساں اثر انداز ہورہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بچے ماں باپ کی بات سنا نہیں چاہتے اور ماں باپ اپنی مصروفیات کی وجہ سے یا اور وجوہات کی وجہ سے خود بھی بچوں سے فاصلے پیدا کرتے چلے جارہے ہیں اور پھر ایسے بھی ہیں جو گھروں میں ان ذریعوں سے ٹی وی وغیرہ کے ذریعہ سے خود ہی اپنے ماحول کو خراب کر رہے ہیں اور پھر بہر حال نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے اور نکل رہا ہے کہ ماں باپ بچوں پر ظلم کرنے لگ جاتے ہیں اور بچے ماں باپ کی عزت و احترام نہیں کرتے۔کہہ دیتے ہیں کہ اس ماحول میں ایسے ہی رہنا ہے اگر یہاں آئے ہو تو اس طرح گزارا کرنا پڑے گا۔اور یہ پھر فردی برائیاں نہیں رہتیں۔یہ قومی برائیاں بنتی چلی جارہی ہیں۔گھر برباد ہورہے ہیں۔ماں باپ بچوں کا روحانی قتل بھی کر رہے ہیں اور بربادہورہے جسمانی قتل بھی کر رہے ہیں۔مغربی معاشرہ تو آزادی کے نام پر ایک تباہی کی طرف جاہی رہا ہے اور یہ قومی بدی ہے لیکن اس کی لپیٹ میں بعض احمدی بھی آ رہے ہیں۔اس سے پہلے کہ یہ قومی برائی بنے اور وسیع طور