خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 103
خطبات مسرور جلد 13 103 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015 ء پیشگوئیاں اور باتیں پوری ہوئی ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ پوری ہو رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان بھی یقینا سچا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ہر عیب سے پاک ہے اور کامل اور مکمل تعلیم ہے۔پس اس بات کو ہم یقینا سچا سمجھتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ پھر کی کہاں ہے۔اس کا جواب یہی ہونا چاہئے کہ پھر اس کے سمجھنے میں غلطی ہے۔اس پر عمل میں غلطی ہے۔پس اگر قرآن کریم میں کوئی نقص نہیں ہے تو یقیناً ہمارے سمجھنے اور عمل کرنے میں غلطی ہے اور یقینا قرآن کریم میں نقص نہیں ہے تو پھر اس کے معنی سمجھنے میں غلطی کی وجہ سے قوم متاثر ہوئی ہے۔یہ غلطیاں قوم کے پہلے علماء کے قرآن کریم کو غلط سمجھنے کی وجہ سے ہوسکتی ہیں اور موجودہ علماء کے غلط سمجھنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں۔بہر حال نتیجہ ظاہر ہے جو ہمیں نظر آ رہا ہے۔اب علماء یا مفسرین بیشک اپنے نظریات رکھتے تھے یا رکھتے ہیں اور یہ انفرادی نظریات ہیں لیکن قوم یہ نہیں کہتی کہ علماء کے ذاتی نظریات ہیں قوم ان علماء کی طرف دیکھتی ہے۔اس لئے ان کے پیچھے چلنے والے غلط نظریات کی وجہ سے یا تفسیروں کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے باوجود فائدہ اٹھانے والے نہیں بن سکے بلکہ نقصان اٹھا ر ہے ہیں اور اس وجہ سے قوم میں برائیاں پیدا ہو گئیں۔بعض غلط نظریات رواج پا گئے جن کا اسلام کی تعلیم سے واسطہ ہی نہیں ہے۔ماحول کا اثر ہو گیا۔دوسرے مذاہب کا اثر ہو گیا۔تمدن کا اثر ہو گیا جس کو غلط رنگ میں مذہب کا حصہ سمجھ لیا گیا۔تو بہر حال نقائص پیدا ہوئے۔تفسیر و تشریح کا ایک بنیادی اصول اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہیں اور ان پرانی روایات یا حکمت سے عاری روایات یا تفاسیر کا ہم پر اثر نہیں ہوسکتا اور نہیں ہونا چاہئے لیکن پھر بھی ہم پورے طور پر محفوظ اس لئے نہیں کہ اپنے نظریات کو رکھنے والے لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں جو بعض مواقع پر بعض معاملات میں شکوک وشبہات میں پڑ جاتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ اس بات کی اس طرح بھی تشریح کرنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض دفعہ بعض نئے آنے والے علماء ہی اپنی سوچ کے مطابق تفسیر کر دیتے ہیں گو کہ منع نہیں ہے، ہونی چاہئے لیکن اس کے لئے کچھ اصول ہیں۔بہر حال اس غلطی کی وجہ سے پھر ایک غلط نظریہ پیدا ہوسکتا ہے، اس لئے اس برائی سے بچنے کے لئے علماء کو بھی خلافت اور جماعتی نظام کے تحت ہی اپنے نظریات کا اظہار کرنا چاہئے۔بیشک ہم غلط نظریات سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے عمومی طور پر پاک ہیں لیکن اپنے آپ کو غلطیوں سے پاک رکھنے کی ضرورت مستقل طور پر ہے اور اس کا طریقہ یہی