خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 696
خطبات مسرور جلد 13 696 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2015ء کی بات ہے۔میں ایک یونیورسٹی کی طالبعلم ہوں اور مختلف مذاہب پر تحقیق کر رہی ہوں۔اس تقریب میں شامل ہونے کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ ہمارا اسلام کے بارے میں علم بہت تھوڑا ہے جس کی وجہ سے ہم غلط فہمی کا شکار ہیں۔امام جماعت احمدیہ کا خطاب اس زمانے کی ضرورت ہے۔میں نے اس خطاب سے اسلام کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ہم جاپانی لوگ اسلام کے متعلق زیادہ نہیں جانتے بلکہ اسلام سے خوفزدہ ہیں مگر آج کے خطاب سے ہمیں پتا چلا کہ اسلام اصل میں کیا چیز ہے۔کہتی ہیں کہ اس تقریب میں شامل ہونے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام کے بارے میں کتابیں پڑھنے سے اور اس کی تاریخ پڑھنے سے ہم اس کا اصل چہرہ نہیں دیکھ سکیں گے۔کیونکہ بہت ساری کتابیں تو یہ لوگ جو پڑھتے ہیں وہ انہی کی پڑھتے ہیں جو ولیسٹرن اور میٹلسٹس (Western Orientalists) نے لکھی ہیں۔اس کے لئے اس طرح کی اور تقاریب منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔مسجد کے بننے کے بعد میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح کے مواقع مزید آئیں گے۔امام جماعت احمدیہ اور ان کی جماعت سے ملنے کا موقع ملا۔باہمی محبت اور امن اور آشتی مجھے ان کے چہروں پر نظر آئی اور ان سے ملاقات کرنے کے بعد مجھے ان میں بہت پیار اور محبت نظر آئی۔ایک اور جاپانی دوست تھویا سا گورائی (Toya Sakurai) صاحب کہتے ہیں کہ آج اس تقریب میں شامل ہونے اور امام جماعت احمدیہ کی باتیں سننے سے اس دنیا کے امن کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا۔اس موقع کے فراہم کرنے کے لئے میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔امام جماعت احمدیہ نے صرف امن کے متعلق ہی بات کی اور دنیا کو خفی خطرات سے بھی آگاہ کیا۔جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے ہمارے ان خدشات کو بھی دور کیا کہ مسلمان دنیا پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔میں بار بار یہی کہوں گا کہ ہمیں ان کے ساتھ مل کر امن کے لئے کام کرنا چاہئے۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلام کے بارے میں پڑھیں اور اس کو سمجھیں۔اسی طرح ایک جاپانی دوست جو سکول ٹیچر ہیں کہتے ہیں کہ احمدی احباب نے مشکل اوقات میں ہمیشہ ہماری مدد کی۔یہ بات میں پہلے نہیں جانتا تھا۔(وہاں کیونکہ بہت سارے مقررین نے بتایا کہ مختلف زلزلوں میں سونامی کے دنوں میں جماعت احمدیہ نے مدد کی ہے۔) تو کہتے ہیں اس بات کا مجھے پہلے نہیں پتا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ یہاں قریب کے سکول میں ٹیچر ہوں۔کہتے ہیں اب میں آج کے بعد اپنے سکول کے بچوں کو کہہ سکتا ہوں کہ یہ لوگ خطر ناک نہیں کیونکہ امام جماعت احمدیہ اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگوں سے ملاقات کا بہت حسین موقع مجھے ملا۔کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے بہت آسان طریق۔