خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 172
خطبات مسرور جلد 13 172 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015ء چاہتا ہوں وہ مان رہے ہیں۔اس دوران میں میاں نظام الدین صاحب وہاں پہنچے اور کہنے لگے تمام بخشیں بند کر دو۔میں اب حضرت مرزا صاحب سے مل کر آیا ہوں اور وہ بالکل تو بہ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔میں چونکہ آپ کا بھی دوست ہوں اور حضرت مرزا صاحب کا بھی اس لئے مجھے اس اختلاف سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔میں یہ بھی جانتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کی طبیعت میں نیکی ہے۔اس لئے میں ان کے پاس گیا اور ان سے یہ وعدہ لے کر آیا ہوں کہ قرآن سے دس آیتیں حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے متعلق دکھا دی جائیں تو وہ حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہو جائیں گے۔آپ مجھے ایسی دس آیتیں بتلا دیں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی طبیعت میں بڑا غصہ تھا۔جلد باز تھے۔کہنے لگے کمبخت تو نے میرا سارا کام خراب کر دیا۔میں دو مہینے سے بحث کر کے ان کو حدیث کی طرف لایا تھا اب تو پھر قرآن کی طرف لے گیا ہے۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے اچھا تو دس آیتیں بھی آپ کی تائید میں نہیں۔وہ کہنے لگے تو جاہل آدمی ہے تجھے کیا پتا کہ قرآن کا کیا مطلب ہے۔وہ کہنے لگے اچھا تو پھر جدھر قرآن ہے اُدھر ہی میں بھی ہوں۔یہ کہہ کر وہ قادیان آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔قرآن جماعت احمدیہ کے ساتھ ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ دیکھو قرآن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوکس قدر اعتماد تھا اور آپ کتنے وثوق سے فرماتے تھے کہ قرآن آپ کے خلاف نہیں ہو سکتا۔اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ قرآن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کوئی خاص رشتہ ہے یا اس کا جماعت احمدیہ سے کوئی خاص تعلق ہے۔قرآن تو سچائی کی راہ دکھائے گا اور جوفریق سچ پر ہو گا اس کی حمایت کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چونکہ یقین تھا کہ آپ حق پر ہیں اس لئے قرآن بھی آپ کے ساتھ تھا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر میرا کوئی دعویٰ قرآن کے مطابق نہ ہو تو میں اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے دعوی کے متعلق کوئی شک تھا بلکہ یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ قرآن میری تصدیق ہی کرے گا۔یہ امید ہے جس نے دنیا میں آپ کو کامیاب کر دیا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحہ 416 تا 418 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 را پریل 1932ء) پس ہر احمدی کو ہمیشہ پر اعتما در ہنا چاہئے کہ قرآن کریم حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کے ساتھ ہے۔اور یہ قرآن کریم کی تائید ہی ہے جو ہر روز جماعت کی تعداد کو پاک فطرت لوگوں کے