خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 81
خطبات مسرور جلد 12 81 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 فروری 2014ء پھر آپ فرماتے ہیں کہ: یہ بات بھی خوب یاد رکھنی چاہیے کہ ہر بات میں منافع ہوتا ہے۔دنیا میں دیکھ لو۔اعلیٰ درجہ کی نباتات سے لے کر کیڑوں اور چوہوں تک بھی کوئی چیز ایسی نہیں، جو انسان کے لئے منفعت اور فائدے سے خالی ہو۔یہ تمام اشیاء خواہ وہ ارضی ہیں یا سماوی اللہ تعالیٰ کی صفات کے اظلال اور آثار ہیں“۔(اللہ تعالیٰ کی صفات کے سائے ہیں۔اور جب صفات میں نفع ہی نفع ہے تو بتلاؤ کہ ذات میں کس قدر نفع اور سود ہو گا“۔( یعنی یہ صفات ہیں تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے اگر تعلق پیدا کرلو گے تو کس قدر نفع ہے اس مقام پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جیسے ان اشیاء سے کسی وقت نقصان اٹھاتے ہیں تو اپنی غلطی اور نامنہی کی وجہ سے۔اس لئے نہیں کہ نفس الامر میں ان اشیاء میں مضرت ہی ہے“۔( یعنی اس لئے نہیں ہوتا کہ ان کی اصل میں، ان چیزوں کی بنیاد میں ہی نقصان رکھا ہوا ہے۔) نہیں ، بلکہ اپنی غلطی اور خطا کاری سے “۔( نقصان ہوتا ہے ) اسی طرح پر ہم اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا علم نہ رکھنے کی وجہ سے تکلیف اور مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں ورنہ خدا تعالیٰ تو ہمہ رحم اور کرم ہے۔دنیا میں تکلیف اٹھانے اور رنج پانے کا یہی راز ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی سوء فہم اور قصور علم کی وجہ سے مبتلائے مصائب ہوتے ہیں“۔( یہ سوال بھی اکثر لوگ کرتے رہتے ہیں کہ کیوں مصیبتیں آتی ہیں؟ مصیبتیں ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے آتی ہیں ) پس اس صفاتی آنکھ کے ہی روزن سے ہم اللہ تعالیٰ کو رحیم اور کریم اور حد سے زیادہ قیاس سے باہر نافع ہستی پاتے ہیں“۔( یہی اگر صفاتی آنکھ سے ہم دیکھتے ہیں تو تبھی ہمیں اللہ تعالیٰ کریم اور رحیم نظر آتا ہے اور اُس سے ہر فائدہ پہنچتا ہے۔اور وہ ہستی نظر آتی ہے جس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور پہنچتا ہے ) فرمایا اور ان منافع سے زیادہ بہرہ ور وہی ہوتا ہے جو اس کے زیادہ قریب اور نزدیک ہوتا جاتا ہے۔اور یہ درجہ ان لوگوں کو ہی ملتا ہے جو تقی کہلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں جگہ پاتے ہیں۔جوں جوں متقی خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے ایک نور ہدایت اسے ملتا ہے جو اس کی معلومات اور عقل میں ایک خاص قسم کی روشنی پیدا کرتا ہے اور جوں جوں دُور ہوتا جاتا ہے ایک تباہ کرنے والی تاریکی اس کے دل و دماغ پر قبضہ کر لیتی ہے۔یہاں تک کہ وہ صُمٌّ بُكْمٌ عُمَى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (البقرۃ: 19) کا مصداق ہو کر ذلت اور تباہی کا مورد بن جاتا ہے۔مگر اس کے بالمقابل نور اور روشنی سے بہرہ ور انسان اعلیٰ درجہ کی راحت اور عزت پاتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔یايُّهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (الفجر : 29-28) یعنی اے وہ نفس جو اطمینان یافتہ ہے اور پھر یہ اطمینان خدا کے