خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 491
خطبات مسرور جلد 12 491 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء اگر تم دوسرے لوگوں کی طرح بنو گے تو خدا تعالیٰ تم میں اور ان میں کچھ فرق نہ کرے گا۔اور اگر تم خود اپنے اندر نمایاں فرق پیدا نہ کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ بھی تمہارے لیے کچھ فرق نہ رکھے گا۔عمدہ انسان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق چلے۔۔۔۔۔لیکن اگر ظاہر کچھ اور ہو اور باطن کچھ اور تو ایسا انسان منافق ہے اور منافق کافر سے بدتر ہے۔سب سے پہلے دلوں کی تطہیر کرو۔مجھے سب سے زیادہ اس بات کا خوف ہے۔ہم نہ تلوار سے جیت سکتے ہیں اور نہ کسی اور قوت سے۔ہمارا ہتھیار صرف دعا ہے اور دلوں کی پاکیزگی۔“ 66 ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 386) اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کے مطابق اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے اپنے سب کام خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق سرانجام دینے والے ہوں۔اس کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں۔اس کے حضور متضرعانہ دعاؤں کی طرف توجہ دینے والے ہوں۔اپنی دعاؤں میں جماعتی ترقی اور ابتلاؤں کے دور ہونے کے لئے وہی شدت پیدا کرنے والے ہوں جو اپنی ذاتی تکالیف میں ہم کرتے ہیں۔جماعت کے لئے دعاؤں میں بھی وہ شدت ہم میں پیدا ہو جیسی ہم میں اپنی ذاتی تکالیف کے لئے پیدا ہوتی ہے۔ایک ہو کر ہم مخالفین کے شر سے بچنے کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں۔جیسا کہ میں نے شروع میں بھی کہا تھا کہ جب تک ہم خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے ان اجتماعی تکلیفوں کے دور کرنے کے لئے نہیں جھکیں گے ہم اپنے مقصد کو جلد حاصل نہیں کر سکیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر ہماری مشتر کہ دعائیں ہی ہماری انفرادی تکالیف کو بھی دور کر سکتی ہیں۔جب انسان دوسرے کے لئے دعا کرتا ہے تو فرشتے بھی اس کے لئے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔غار سے پتھر اس وقت ہٹتے ہیں جب دعاؤں کا رخ اور مقصد مشترک ہو۔پس کسی فرد جماعت کو اس خود غرضی میں نہیں پڑنا چاہئے کہ میں ٹھیک ہوں تو بس سب ٹھیک ہے۔دنیا کے کسی بھی کونے میں بسنے والے احمدی کی تکلیف ہم سب کی مشترک تکلیف ہے۔اس کا احساس ہم میں پیدا ہونا چاہئے اور صرف احساس ہی پیدا نہ ہو اس کے لئے ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اور یہی ہتھیار ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ ہتھیار ہمیں ہماری فتوحات سے ہمکنار کرے گا۔لیکن یہ بات بھی ہمیں یاد رکھنی چاہئے کہ جوش میں ہم دشمنوں کے بارے میں یا مخالفین کے