خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 32
32 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء خطبات مسرور جلد 12 بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ اکثر یہ کہیں گے کہ قوت ارادی کے جو اپنے الفاظ ہیں ، اُن سے ہی ظاہر ہے کہ یہ کسی کام کو کرنے کے مضبوط ارادے اور اُسے بجالانے کی اور انجام دینے کی قوت ہے۔یہاں یہ سوال اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے کہ یہ قوت ارادی کیا چیز ہے؟ تو اس بارے میں واضح ہونا چاہئے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے احسن رنگ میں اس کو بیان فرمایا ہے کہ قوت ارادی کا مفہوم عمل کے لحاظ سے ہر جگہ بدل جاتا ہے۔پس یہ بنیادی بات ہمیں یاد رکھنی چاہئے اور جب یہ بات اپنے سامنے رکھیں گے تو پھر ہی اس نہج پر سوچ سکتے ہیں کہ دین کے معاملے میں قوت ارادی کیا چیز ہے؟ پس واضح ہو کہ دین کے معاملے میں قوت ارادی ایمان کا نام ہے۔اور جب ہم اس زاویے سے دیکھتے ہیں تو پھر پتا چلتا ہے کہ عملی قوت ایمان کے بڑھنے سے بڑھتی ہے۔اگر پختہ ایمان ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو تو پھر انسان کے کام خود بخود ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہر مشکل اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے آسان ہوتی چلی جاتی ہے۔عملی مشکلات اس ایمان کی وجہ سے ہوا میں اُڑ جاتی ہیں اور آسانی سے انسان اُن پر قابو پالیتا ہے۔اور یہ صرف ہوائی باتیں نہیں ہیں بلکہ عملاً اس کے نمونے ہم دیکھتے ہیں۔جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے پر نظر ڈالتے ہیں تو ایمان سے پہلے کی عملی حالتوں اور ایمان کے بعد کی عملی حالتوں کے ایسے حیرت انگیز نمونے نظر آتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ ایمان لائے وہ کون لوگ تھے؟ اُن کی عملی حالت کیا تھی؟ تاریخ ہمیں اس بارے میں کیا بتاتی ہے؟ اُن ایمان لانے والوں میں چور بھی تھے۔اُن میں ڈاکو بھی تھے۔اُن میں فاسق وفاجر بھی تھے۔اُن میں ایسے بھی تھے جو ماؤں سے نکاح بھی کر لیتے تھے ، ماؤں کو ورثے میں بانٹنے والے بھی تھے۔اپنی بیٹیوں کو قتل کرنے والے بھی تھے۔اُن میں جواری بھی تھے جو ہر وقت جوا کھیلتے رہتے تھے۔اُن میں شراب خور بھی تھے اور شراب کے ایسے رسیا کہ اس بارے میں اُن کا مقابلہ کوئی کر ہی نہیں سکتا۔شراب پینے کو ہی عزت سمجھتے تھے۔ایک دوسرے پر شراب پینے پر فخر کرتے تھے کہ میں نے زیادہ پی ہے یا ئیں زیادہ پی سکتا ہوں۔ایک شاعر اپنی بڑائی اور فخر اس بات پر ظاہر کرتا ہے کہ میں وہ ہوں جو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر بھی شراب پیتا ہوں۔پانی کو تو ہاتھ ہی نہیں لگا تا۔جواری اپنے جوئے پر فخر کرتے ہوئے یہ کہتا تھا کہ میں وہ ہوں جو اپنا تمام مال مجوئے میں لٹا دیتا ہوں اور پھر مال آتا ہے تو پھر اُسے جوئے میں لٹا دیتا ہوں۔شاید آج بڑے سے بڑا جواری بھی کھل کر یہ اعلان نہ کرتا ہو۔بہر حال یہ حالت اُن کی اُس وقت تھی۔