خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 735
خطبات مسرور جلد 12 735 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 دسمبر 2014ء ہے۔بیعت کا تو مفہوم ہی اطاعت میں اپنے آپ کو فنا کرنا ہے۔اور یہ مفہوم اتنا بلند ہے کہ دنیوی امور میں فرمانبرداری اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔آپ نے فرمایا کہ یہ گر که اطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمْ ایسا ہے کہ جب تک کوئی قوم اس پر عمل نہیں کرتی خواہ وہ سچے مذہب کی پابند ہو یا اس سے ناواقف کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 509 تا 512) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو ہر وقت سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ قوم بننے کے لئے یگانگت اور فرمانبرداری انتہائی ضروری ہے اور اس کے بغیر گراوٹ اور تنزل ہی ہوگا۔اس بارے میں قرآن کریم نے بھی ہمیں واضح فرمایا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ اعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔(آل عمران : 104 ) یعنی اللہ کی رسی کو سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہو گئے۔اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے لیکن مسلمانوں کی بدقسمتی کہ اس واضح ارشاد کے باوجود تفرقہ کی انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں اور اپنے اوپر جو انعامات ہوئے تھے ان کو بھلا بیٹھے ہیں اور ادبار اور تنزل کی انتہاؤں کو اس وجہ سے چھورہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت تھی جیسا کہ آپ نے فرمایا۔اب تو اس کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔اس زمانے کی نسبت اب تو یہ انتہا کو پہنچی ہوئی ہے لیکن سمجھتے نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اختلاف رائے چھوڑ دو اور ایک کی اطاعت کرو یعنی زمانے کے امام کی اطاعت کیونکہ اس