خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 37
خطبات مسرور جلد 12 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء چودہ سوسال پہلے اصلاح کا جو عمل قوتِ ایمان کی وجہ سے انقلاب لایا، اُس کی مثال اس وسیع پیمانے پر دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔کس طرح حیرت انگیز طور پر دنیا میں یہ انقلاب بر پا ہوا۔لیکن اس سے ملتی جلتی کئی مثالیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ماننے والوں میں ہمیں نظر آتی ہیں۔تمباکو نوشی گو حرام تو نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہر حال اس کو برافر ما یا بلکہ ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ شاید یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتی تو منع فرما دیتے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ (235) لیکن ایک برائی بہر حال ہے اور اس میں نشہ بھی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک سفر کے دوران جب حقے سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو آپ کے صحابہ نے جو حقہ پینے کے عادی تھے، اپنے حقے کو توڑ دیا اور پھر تمباکونوشی کے قریب بھی نہیں پھٹکے۔کہتے کہ اس طرف تو کبھی ہماری توجہ ہی نہیں گئی۔(ماخوذ از سیرت المہدی از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب جلد 1 حصہ سوم صفحہ 666 روایت نمبر 726 مطبوعہ ربوہ) اسی طرح ایسے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثالیں بھی ملتی ہیں جنہوں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد تمام برائیوں کو چھوڑا۔حتی کہ ایسی مثال بھی ہے جو شراب جیسی برائی میں گرفتار تھے لیکن احمدیت قبول کرنے کے بعد وہ چھوڑ دی۔پس یہ نمونے ہیں جو ہمیں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔کسی قانون سے ڈر کر یا اپنے معاشرے سے ڈر کر ہی برائیاں نہیں چھوڑنی۔یا اُن سے اس لئے نہیں بچنا کہ اُن میں ماں باپ کا خوف ہے یا معاشرے کا خوف ہے۔یہ سوچ نہیں ہونی چاہئے بلکہ سوچ یہ ہونی چاہئے کہ ہم نے برائی اس لئے چھوڑ نی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا۔یا اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منع فرمایا ہے تو ہم نے اس سے رکنا ہے۔مسلمان ملکوں میں اگر شراب کھلے عام نہیں ملتی ، پاکستان وغیرہ میں تو مجھے پتا ہے کہ قانون اب اس کی اجازت نہیں دیتا تو چھپ کر ایسی قسم کی شراب بنائی جاتی ہے جو دیسی قسم کی شراب ہے اور پھر پیتے بھی ہیں اور اس کا نشہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔امیر طبقہ اور اور بہانوں سے اعلیٰ قسم کی شراب کا بھی انتظام کر لیتا ہے۔پھر یو نیورسٹی میں سٹوڈنٹس کو میں نے دیکھا ہے کہ ایسے سیرپ یا دوائیاں ، خاص طور پر کھانسی کے سیرپ جن میں الکوحل ملی ہوتی ہے، اُس کو نشے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور پھر اس کا نقصان بھی ہوتا ہے کیونکہ اس میں دوسری دوائیاں بھی ملی ہوتی ہیں۔پس ایسے معاشرے میں بچنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اپنی قوتِ ارادی سے ان برائیوں سے