خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 36
خطبات مسرور جلد 12 36 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء بھی لے لیں یا اُس کے سامنے سے اُٹھا لیں تو مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔کلبوں اور باروں (Bars) میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔چند دن ہوئے یہاں پر بھی ایک خبر تھی کہ ایک کلب میں یا بار (Bar) میں ایک نشئی شخص نے دوسرے کو مار دیا۔بلکہ یہ نشئی لوگ خلاف مرضی باتیں سن کر ہی قتل و غارت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔پس ان شرابیوں کی جو نشے میں دھت ہوتے ہیں، نہ عقلیں سلامت ہوتی ہیں، نہ سمجھ سلامت ہوتی ہے، نہ زبان پر قابور ہتا ہے اور نہ ماں باپ کی پرواہ ہوتی ہے۔اُن کے ہاتھ پاؤں بھی غیر ارادی طور پر حرکت کرتے ہیں۔نشے میں نہ انہیں قانون کی پرواہ ہوتی ہے، نہ سزا کا ڈر ہوتا ہے۔لیکن صحابہ کی قوت ارادی نشے پر غالب آ گئی۔باوجود اس کے کہ وہ نشے میں مخمور تھے۔ایک مٹکا اُس وقت پی بھی چکے تھے۔دوسرا مٹکا وہ پینے والے تھے۔ایسے وقت میں اُن کے کانوں میں یہ آواز پڑتی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ شراب مسلمانوں پر حرام کر دی گئی ہے تو اُن کا نشہ فوراً ختم ہو جاتا ہے۔وہ پہلے شراب کا مٹکا توڑتے ہیں اور پھر اعلان کرنے والے سے وضاحت پوچھتے ہیں کہ اس اعلان کا کیا مطلب ہے؟ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 446-447 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوع فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) اور یہ ایک گھر کا معاملہ نہیں ہے، چند لوگوں کا معاملہ نہیں۔بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں روایت میں آتا ہے کہ ایسے کئی گھر مدینے میں تھے جن میں شراب کی محفلیں جمی ہوئی تھیں۔اس اعلان کے ساتھ ہی اس تیزی سے شراب کے مسئلے ٹوٹے کہ مدینے کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہنے لگی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 448 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولا ئی 1936 مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ ) کیسی حیران کن قوت ارادی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ قوت ارادی ایسی ہے کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد کوئی روک درمیان میں حائل نہیں رہ سکتی بلکہ ہر چیز پر قوت ارادی قبضہ کرتی چلی جاتی ہے۔گویا قوت ارادی سے وافر حصہ رکھنے والے روحانی دنیا کے سکندر ہوتے ہیں، اس کے پہلوان ہوتے ہیں۔جس طرف اُٹھتے ہیں اور جدھر جاتے ہیں اور جدھر جانے کا قصد کرتے ہیں، شیطان اُن کے سامنے ہتھیار ڈالتا چلا جاتا ہے اور مشکلات کے پہاڑ بھی اگر اُن کے سامنے آئیں تو وہ اسی طرح کٹ جاتے ہیں جس طرح پنیر کی ٹکیہ کٹ جاتی ہے۔پس اگر اس قسم کی قوت ارادی پیدا ہو جائے اور اس حد تک ایمان پیدا ہو جائے تو پھر لوگوں کے اصلاح اعمال کے لئے اور طریق اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 447 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ )