خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 29

خطبات مسرور جلد 12 29 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء مزید وضاحت انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ میں کروں گا۔آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات پیش کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا اور اپنی قوت خرچ کرنا یہی ایمان کا طریق ہے۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 145) پس اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا، اپنی قوتِ ارادی کو دعا کے ذریعہ سے مضبوط کرنا ہے اور قوت کا خرچ کرنا ، قوت ارادی اور قوت عملی کا اظہار ہے۔جب یہ اظہار اعلیٰ درجہ کا ہو جائے تو یہی ایمان ہے اور پھر بندہ ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کرتا ہے اُس کی رضا کے حصول کی طرف توجہ رہتی ہے۔پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا: ” تم صرف اپنا عملی نمونہ دکھاؤ۔اور اس میں ایک ایسی چمک ہو کہ دوسرے اُس کو قبول کر لیں۔کیونکہ جب تک اس میں چمک نہ ہو، کوئی اس کو قبول نہیں کرتا۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 181) جب تک تمہاری اندرونی حالت میں صفائی اور چمک نہ ہوگی ، کوئی خریدار نہیں ہوسکتا۔جب تک تمہارے اخلاق اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں، کسی مقام تک نہیں پہنچ سکو گے۔پس عملی حالتوں کی درستی کے لئے بہت محنت اور مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ ہر احمدی اپنے احمدی ہونے کے مقصد کو پورا کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق ہم اپنے آپ کو حقیقی مسلمان بنا سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم ماسٹر مشرق علی صاحب ایم اے کلکتہ انڈیا کا ہے۔3 جنوری 2014ء کو تقریبا 80 سال کی عمر میں قادیان میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ گزشتہ ایک سال سے بیمار تھے۔جاپان بھی آپ کے بیٹے علاج کی غرض سے لے گئے۔وہاں سے کچھ بہتر ہوئے تھے۔آجکل اپنی بیٹی کے پاس قادیان تھے۔آپ کو 1965ء میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت کی سعادت ملی۔اس کے بعد یہ زندگی کے آخری لمحے تک دیوانہ وار دعوت الی اللہ میں مصروف رہے ہیں۔ان کا 48 سالہ دینی خدمات کا دور ہے اور آپ کو سیکرٹری تبلیغ ، قائد خدام الاحمدیہ، ناظم انصار اللہ بنگال، نائب امیر اور امیر کلکتہ، پھر لمبا عرصہ صوبائی امیر بنگال اور آسام کی حیثیت سے خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔اسی طرح نیپال کے تبلیغی امور کے نگران اور انجمن وقف جدید قادیان کے ممبر رہے۔بنگالی زبان میں رسالہ ”البشری بڑی محنت سے شائع کرتے اور لوگوں کو پوسٹ بھی خود ہی