خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 27

خطبات مسرور جلد 12 27 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء طاقت کے ذریعہ سے وہ گناہوں پر غالب آ سکے۔جیسے کہ وزن اُٹھانے کی مثال بیان کی گئی تھی۔کمزور طاقت ایک وزن کو اُٹھا نہ سکی لیکن جب دماغ نے زیادہ وزن اُٹھانے کی طاقت بھیجی تو وہی ہاتھ اُس زیادہ وزن کو اُٹھانے کے قابل ہو گیا۔لیکن اگر انسان کی قوت موازنہ یہ حکم دماغ کو نہ بھیجتی تو وہ وزن نہ اٹھا سکتا۔اسی طرح گناہوں کو مٹانے میں بھی یہی اصول ہے۔گناہوں کو مٹانے کی طاقت انسان میں ہوتی ہے لیکن جب گناہ سامنے آتا ہے اور قوتِ مواز نہ یہ کہ دیتی ہے کہ اس گناہ میں حرج کیا ہے کہ چھوٹا سا، معمولی ساتو گناہ ہے جب کہ اس کے کرنے سے فائدہ زیادہ حاصل ہوگا تو دماغ پھر گناہ کو مٹانے کی طاقت نہیں بھیجتا۔وہ حس مر جاتی ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوت ارادی ختم ہو جاتی ہے اور گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔گویا اصلاح اعمال کے لئے تین چیزوں کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ایک قوتِ ارادی کی مضبوطی کی ضرورت ہے، ایک علم کی زیادتی کی ضرورت ہے اور ایک قوتِ عملیہ میں طاقت کا پیدا کرنا، یہ بھی ضروری ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ علم کی زیادتی در حقیقت قوتِ ارادی کا حصہ ہوتی ہے کیونکہ علم کی زیادتی کے ساتھ قوت ارادی بڑھتی ہے۔یا کہہ سکتے ہیں کہ وہ عمل کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ان سب باتوں کا خلاصہ یہ بنے گا کہ عملی اصلاح کے لئے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے، پہلے قوت ارادی کی طاقت کہ وہ بڑے بڑے کام کرنے کی اہل ہو۔علم کی زیادتی کہ ہماری قوتِ ارادی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی رہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے اور صحیح کی تائید کرنی ہے اور اُس پر عمل کرنے کے لئے پورا زور لگانا ہے۔غفلت میں رہ کر انسان مواقع نہ گنوا دے۔تیسرے قوت عملیہ کی طاقت کہ ہمارے اعضاء ہمارے ارادے کے تابع چلیں۔بد ارادوں کے نہیں، نیک ارادوں کے اور اُس کا حکم ماننے سے انکار نہ کریں۔یہ باتیں گناہوں سے نکالنے اور اعمال کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہیں۔اپنی قوت ارادی کو ہمیں اُس زبر دست افسر کی طرح بنانا ہو گا جو اپنے حکم کو اپنی طاقت اور قوت اور اصولوں کے مطابق منواتا ہے اور کسی مصلحت کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتا۔ہمیں چھوٹے بڑے گناہوں کی اپنی من مانی تعریفیں بنا کر اپنے او پر غالب آنے سے روکنا ہو گا۔صحیح علم ہمیں اُن ناکامیوں سے محفوظ رکھے گا جو قوت موازنہ کی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جس کی مثال میں دے چکا ہوں کہ حس مرجاتی ہے۔چھوٹے اور بڑے گناہوں کے چکر میں انسان رہتا ہے اور پھر اصلاح کا موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔اور بعض دفعہ یوں بھی ہوتا ہے کہ عدم علم کی وجہ سے قوت ارادی فیصلہ ہی نہیں کر سکتی کہ اُسے کیا کرنا ہے یا کیا کرنا چاہئے۔اسی