خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 1
خطبات مسرور جلد 12 1 1 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء خطبه جمع سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا سرور احمد خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء بمطابق 03 صلح 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سب سے پہلے تو میں آج آپ کو اور دنیا میں پھیلے ہوئے تمام احمدیوں کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں۔مجھے اداروں کی طرف سے بھی ، جماعتوں کی طرف سے بھی ، افراد کی طرف سے بھی مبارکباد کے پیغام آ رہے ہیں۔ان سب کو مبارک ہو اور جماعت کو مبارک ہو اور اس دعا کے ساتھ یہ مبارکباد ہے کہ اللہ تعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے پہلے سے بڑھ کر اس سال کو اپنی رحمتوں ،فضلوں اور برکتوں کا سال بنا دے۔اور یہ دعا ہر احمدی کی یقیناً ہے اور ہونی چاہئے۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں ، برکتوں اور رحمتوں کی خواہش اور دعا کئے بغیر یہ مبارکباد دیتے ہیں تو صرف رسماً مبارکباد دینا تو بے فائدہ ہے اور دنیا داروں کی باتیں ہیں۔لیکن یہ خواہش بھی بے کار ہو گی اور دعا بھی لا حاصل ہوگی اگر ہم اپنی اُن صلاحیتوں اور استعدادوں کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے بروئے کار نہ لائیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں ودیعت فرمائی ہوئی ہیں۔اُن باتوں پر عمل کرنے کی کوشش نہ کریں جن پر عمل کرنے کا خدا تعالیٰ نے ہمیں حکم فرمایا ہے۔ہمارا صرف نئے سال کی رات کو اجتماعی نفل پڑھ لینا کافی نہیں ہے، اگر ہمیں ان نوافل کی ادائیگی کے ساتھ یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ اب ہم نے حتی الوسع یہ کوشش کرنی ہے کہ نوافل کی ادائیگی کرتے رہیں۔اپنی عبادت کے معیار کو بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے بہتر بنانا ہے اور اپنی عملی زندگی میں ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اگر اس سوچ کے ساتھ ہم نے دو دن پہلے اپنے نئے سال کا آغاز کیا ہے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہیں تو ہم اللہ تعالیٰ کے