خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 313
خطبات مسرور جلد 12 313 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء نمونہ دیکھنا ہے تو جماعت احمدیہ کی تاریخ اس حقیقی قربانی کے نمونوں پر مہر لگاتی ہے۔غرض کہ کوئی بھی ایسی قربانی جو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں کے مطابق اور خدا تعالیٰ کی خاطر ہو، اس کے نمونے قائم کرنے کے لئے آج خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو پیدا کیا ہے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی جماعت عطا کی ہے جس کی اکثریت مال جان وقت اور عزت قربان کرنے کی روح کو سمجھنے والی ہے اور ہر وقت تیار ہے۔لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو علم کی کمی کی وجہ سے ایسا اظہار کر دیتے ہیں جو مومن کی شان نہیں یا حالات کی وجہ سے بشری تقاضے کے تحت ایسے اظہار کر دیتے ہیں جس سے بعض کم تربیت یافتہ یا کچے ذہن ضرورت سے زیادہ اثر لے لیتے ہیں۔بعض لوگ مجھے لکھ بھی دیتے ہیں کہ یہ ابتلا اور امتحان کا عرصہ لمبا ہوتا چلا جارہا ہے۔اگر صرف یہاں تک ہی ہو کہ مشکلات اور امتحان کا عرصہ لمبا ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ جلد آسانیوں کے سامان پیدا فرمائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ جب ان سختیوں اور ابتلاؤں کی انتہا پہنچتی ہے تو رسول اور مومنین کی جماعت متى نضر اللہ کی آواز بلند کرتے ہیں اور یہ دعا بھی کرتے ہیں لیکن ایسا اظہار جس سے دنیاوی واسطوں اور اسباب کی طرف توجہ کی طرف رغبت کا اظہار ہو تو یہ ایک مؤمن کی شان نہیں ہے۔مثلاً مجھے ایک لکھنے والے نے لکھا کہ پاکستان میں جماعت پر جو کچھ ظلم ہورہے ہیں، ہمیں دنیا کو بتانا چاہئے اور ایم ٹی اے کو بھی ایک بڑا حصہ اس بات پر لگا دینا چاہئے کہ وہ اس کے ذریعہ ظلموں کا اظہار کرتی رہے، دنیا کو بتائے اور دوسرے ذرائع بھی استعمال کئے جائیں۔ظلم کے خلاف دنیا میں آواز بلند کی جائے۔بلکہ خط سے یوں لگا کہ جیسے دنیا والے کرتے ہیں ہم بھی دنیاوی طریقے سے شور شرابہ کر کے دنیا کے سامنے اپنے احتجاج کے نعرے بلند کریں تو پھر شاید ان حکومتوں کو جو ہمارے خلاف ہیں ہمارے حقوق دینے کی طرف توجہ پیدا ہو اور یہ ابتلا اور مشکلات کا دور ختم ہو۔یہ کہتے ہیں کہ میرے شیعہ دوست کہتے ہیں کہ جو کچھ جماعت احمدیہ کے ساتھ ہو رہا ہے اگر ہمارے ساتھ ہو تو ہم تو یوں جلوس نکالتے ہیں اور یوں احتجاج کرتے ہیں اور یہ کر دیتے ہیں اور وہ کر دیتے ہیں۔اور یہ بھی کہ اگر ہمارے سے تھوڑ اسا بھی ہو تو ہم دنیا میں شور مچادیتے ہیں۔احمدی صحیح احتجاج نہیں کرتے۔اس لئے ان کا ابتلا اور ان پر ظلم کا عرصہ لمبا ہورہا ہے۔اس بارے میں پہلی بات تو یہ یادر کھنے والی ہے کہ جب ہمارا یہ دعوی ہے کہ ہم الہی جماعت ہیں تو پھر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ الہی جماعتیں دنیاوی حکومتوں یا دنیاوی طرز کے احتجاجوں پر یقین نہیں رکھتیں ، نہ الہی جماعتوں کی ترقی میں دنیاوی مدد کا کوئی کردار ہے یا ہاتھ ہے۔دنیاوی مدد یں بغیر شرائط کے نہیں ہوتیں۔بغیر کسی غرض کے نہیں ہوتیں۔اپنے آگے کسی نہ کسی رنگ میں جھکائے بغیر نہیں ہوتیں۔اور یہ