خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد 12 92 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 فروری 2014ء بعد وہ جوش دکھلایا کہ انتہا تک پہنچ گیا، یعنی تکفیر نامہ لکھا گیا قتل کے فتوے لکھے گئے اور صد ہا کتا ہیں اور رسالے چھاپ دیئے گئے اور قریباً تمام مولوی مخالف ہو گئے اور کوئی ذلیل سے ذلیل منصوبہ نہ چھوڑا جو میرے تباہ کرنے کے لئے نہ کیا گیا مگر نتیجہ برعکس ہوا اور یہ سلسلہ فوق العادت ترقی کر گیا۔“ نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 527-526) پھر آپ فرماتے ہیں: "إِن لَّمْ يَعْصِمُكَ النَّاسُ فَيَعْصِمُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ يَعْصِمُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ وَإِنْ لَّمْ يَعْصِمُكَ النَّاسُ دیکھو براہینِ احمدیہ صفحہ 510۔ترجمہ۔اگر چہ لوگ تجھے نہ بچا ویں یعنی تباہ کرنے میں کوشش کریں مگر خدا اپنے پاس سے اسباب پیدا کر کے تجھے بچائے گا۔خدا تجھے ضرور بچالے گا اگر چہ لوگ بچانا نہ چاہیں۔اب دیکھو کہ یہ کس قوت اور شان کی پیشگوئی ہے اور بچانے کے لئے مکرر وعدہ کیا گیا ہے اور اس میں صاف وعدہ کیا گیا ہے کہ لوگ تیرے تباہ اور ہلاک کرنے کے لئے کوشش کریں گے اور طرح طرح کے منصوبے تراشیں گے مگر خدا تیرے ساتھ ہوگا اور وہ ان منصوبوں کو توڑ دے گا اور تجھے بچائے گا۔اب سوچو کہ کونسا منصوبہ ہے جو نہیں کیا گیا بلکہ میرے تباہ کرنے اور ہلاک کرنے کے لئے طرح طرح کے مکر کئے گئے۔چنانچہ خون کے مقدمے بنائے گئے ، بے آبرو کرنے کے لئے بہت جوڑ توڑ عمل میں لائے گئے اور ٹکس لگانے کے لئے منصوبے کئے گئے۔کفر کے فتوے لکھے گئے قتل کے فتوے لکھے گئے لیکن خدا نے سب کو نامراد رکھا۔وہ اپنے کسی فریب میں کامیاب نہ ہوئے۔پس اس قدر زور کا طوفان جو بعد میں آیا مدت دراز پہلے خدا نے اُس کی خبر دے دی تھی۔خدا سے ڈرو اور سچ بولو کہ کیا یہ علم غیب اور تائید الہی ہے یا نہیں ؟ اور اگر کہو کہ عصمت کا وعدہ چاہتا تھا کہ وہ لوگ کسی قسم کی تکلیف نہ دیں مگر انہوں نے جھوٹے مقدمات کر کے عدالت میں جانے کی تکلیف دی ، بہت سی گالیاں دیں، مقدمات کے خرچ سے نقصان کرایا۔اس کا جواب یہ ہے کہ عصمت سے مراد یہ ہے کہ بڑی آفتوں سے جو دشمنوں کا اصل مقصود تھا بچایا جاوے۔دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عصمت کا وعدہ کیا گیا تھا حالانکہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا تھا اِذْ كَفَفْتُ بَنِي إسْرَائِيلَ عَنكَ - (المائدة: 111) یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک دیا۔حالانکہ تو اتر قوی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا لیکن خدا نے آخر جان بچا دی۔پس یہی معنی اذْ كَفَفْتُ کے ہیں۔جیسا کہ وَاللهُ