خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 82

خطبات مسرور جلد 12 82 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 فروری 2014ء ساتھ پایا ہے۔بعض لوگ حکومت سے بظاہر اطمینان اور سیری حاصل کرتے ہیں۔بعض کی تسکین اور سیری کا موجب ان کا مال اور عزت ہو جاتی ہے۔اور بعض اپنی خوبصورت اور ہوشیار اولا دو احفاد کو دیکھ دیکھ کر بظاہر مطمئن کہلاتے ہیں (اپنے اولا د اور مددگار اور کام کرنے والوں کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم بہت ہیں۔ہمارے لئے اطمینان ہو گیا مگر یہ لذت اور انواع و اقسام کی لذات دنیا انسان کو سچا اطمینان اور سچی تسلی نہیں دے سکتیں۔بلکہ ایک قسم کی ناپاک حرص کو پیدا کر کے طلب اور پیاس کو پیدا کرتی ہیں۔استسقاء کے مریض کی طرح ان کی پیاس نہیں بجھتی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیتی ہے“۔( دنیا دار صرف دنیا کے پیچھے ہی پڑا رہتا ہے۔آخر ہلاک ہو جاتا ہے) مگر یہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وہ نفس جس نے اپنا اطمینان خدا تعالیٰ میں حاصل کیا ہے۔یہ درجہ بندے کے لئے ممکن ہے۔اس وقت اس کی خوشحالی با وجود مال ومنال کے دنیوی حشمت اور جاہ وجلال کے ہوتے ہوئے بھی خدا ہی میں ہوتی ہے۔یہ زر و جواہر، یہ دنیا اور اس کے دھندے، اُس کی سچی راحت کا موجب نہیں ہوتے۔پس جب تک انسان خدا تعالیٰ ہی میں راحت اور اطمینان نہیں پاتا وہ نجات نہیں پاسکتا کیونکہ نجات اطمینان ہی کا ایک مترادف لفظ ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 110۔111 ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ نفس مطمئنہ کے بغیر انسان نجات نہیں پاسکتا۔اس کے بارے میں فرمایا کہ: میں نے بعض آدمیوں کو دیکھا اور اکثروں کے حالات پڑھے ہیں جو دنیا میں مال و دولت اور دنیا کی جھوٹی لذتیں اور ہر ایک قسم کی نعمتیں اولاد احفادر کھتے تھے“۔( یعنی اولا د بھی اور کام کرنے والے مددگار بھی رکھتے تھے ) ” جب مرنے لگے اور ان کو اس دنیا کے چھوڑ جانے اور ساتھ ہی ان اشیاء سے الگ ہونے اور دوسرے عالم میں جانے کا علم ہوا تو ان پر حسرتوں اور بے جا آرزوؤں کی آگ بھڑ کی اور سرد آہیں مارنے لگے۔پس یہ بھی ایک قسم کا جہنم ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں دے سکتا، بلکہ اس کو گھبراہٹ اور بے قراری کے عالم میں ڈال دیتا ہے۔اس لیے یہ امر بھی میرے دوستوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہنا چاہیے کہ اکثر اوقات انسان اہل و عیال اور اموال کی محبت، ہاں ناجائز اور بیجا محبت میں ایسا محو ہو جاتا ہے“۔(محبت تو ہو سکتی ہے لیکن ناجائز اور بے جا محبت نہیں ہونی چاہئے ، اُس میں محو نہیں ہونا چاہئے اور اکثر اوقات اسی محبت کے جوش اور نشہ میں ایسے ناجائز کام کر گزرتا ہے جو اُس میں اور خدا تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ایک دوزخ تیار کر دیتے ہیں۔اس کو اس بات کا علم نہیں ہوتا جب وہ ان سب سے یکا یک علیحدہ کیا جاتا ہے اس گھڑی کی اسے خبر نہیں ہوتی۔تب وہ ایک