خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 2

خطبات مسرور جلد 12 2 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء فضلوں، رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کی کوشش کرنے والوں میں شمار ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک کی یہ سوچ ہو۔اگر نہیں ہے تو خدا کرے کہ ہماری یہ سوچ ہو جائے۔یہی سوچ ہے جو اللہ تعالیٰ کے گزشتہ فضلوں کا بھی شکر گزار بناتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے محض اور محض اپنے فضل سے ہم پر جو احسانات اور انعامات کئے ہیں ، اُن پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والا بناتی ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور ہمارا خالص ہو کر جھکنا ہی ہماری زندگی کا مقصد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے۔پس یہ روح ہے جو ہماری ان مبارکبادوں کے پیچھے کارفرما ہونی چاہئے۔جب ہم گزشتہ سال کا جائزہ لیتے ہیں تو جماعتی لحاظ سے جہاں بعض مشکلات بھی ہیں لیکن پھر بھی 2013ء کا سال ہمیں اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل دکھاتا ہوا نظر آتا ہے۔پس اگر ہم نے یہ فضل جاری رکھنے ہیں تو عاجزی، محنت اور دعا کے ساتھ ان فضلوں کو جذب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔خاص طور پر اُن لوگوں کو جن کے سپر د بعض جماعتی خدمات ہوئی ہوئی ہیں۔وہ خاص طور پر اس بات کو مد نظر رکھیں کہ یہ فضل جذب کرنے کے لئے ہمیں عاجزی، انکساری اور دعا اور محنت کی ضرورت ہے۔بعض لوگ اس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمیں جماعت میں اتنے عہدوں پر کام کرنے کی تو فیق مل رہی ہے۔بے شک یہ فقرہ اُن کے منہ سے نکلتا ہے کہ کام کرنے کی توفیق مل رہی ہے لیکن اس کام کی توفیق کا حق تب ادا ہو گا جب ذہن کے کسی گوشے میں بھی عہدہ کا تصور پیدا نہ ہو بلکہ خدمت دین کا تصور پیدا ہو۔خدمت دین کو اک فضل الہی سمجھیں۔یہ خیال دل میں رہے۔اپنی انا، فخر اور رعونت اور اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھنے کا خیال بھی دل میں پیدا نہ ہو۔جو لوگ اس سوچ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور عاجزی کو ہر وقت اپنے سامنے رکھتے ہیں، اُن کے کاموں میں اللہ تعالیٰ پھر بے انتہا برکت بھی ڈالتا ہے۔اُن کے ساتھ کام کرنے والے بھی بھر پور طریق سے اُن کے مددگار بن کر جماعتی خدمات سرانجام دے رہے ہوتے ہیں اور افراد جماعت بھی اُن کی ہر بات کو دل کی خوشی سے قبول کر رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہمارے تمام عہدیدار یا خدمت سر انجام دینے والے بھی اپنے آپ میں یہ عاجزی، انکساری، اخلاص، محنت اور دعا کی حالت پیدا کرنے والے ہوں اور پہلے سے بڑھ کر پیدا کرنے والے ہوں۔اور جب یہ ہوگا تو تبھی وہ یقیناً خلیفہ وقت کے بھی سلطان نصیر بننے والے ہوں گے۔اور افراد جماعت بھی وفا کے ساتھ سلسلہ کے کاموں کو ہر دوسرے کام پر مقدم کرنے والے ہوں تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے ہمیشہ دیکھتے چلے جانے والے ہوں۔