خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 774
خطبات مسرور جلد 12 774 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 دسمبر 2014ء پھر آپ نے فرمایا کہ : ” قرآن شریف فرماتا ہے۔مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ۔۔۔(المائدة : 33) یعنی جو شخص کسی نفس کو بلا وجہ تل کر دیتا ہے وہ گویا ساری دنیا کوقتل کرتا ہے۔ایسا ہی میں کہتا ہوں فرمایا: ” ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تو اس نے ساری دنیا کے ساتھ ہمدردی نہیں کی۔فرمایا: ” زندگی سے اس قدر پیار نہ کرو کہ ایمان ہی جاتا رہے۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ (352) پھر فرماتے ہیں: یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 353) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دین کے ساتھ دنیا جمع نہیں ہو سکتی۔ہاں خدمتگار کے طور پر تو بیشک ہوسکتی ہے لیکن بطور شریک کے ہر گز نہیں ہو سکتی۔یہ کبھی نہیں سنا گیا کہ جس کا تعلق صافی اللہ تعالیٰ سے ہو وہ ٹکڑے مانگتا پھرے۔اللہ تعالیٰ تو اس کی اولاد پر بھی رحم کرتا ہے۔پھر فرماتے ہیں، یہ سننے والی بات ہے : " ہماری جماعت میں وہی شریک سمجھنے چاہئیں جو بیعت کے موافق دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہیں۔جب کوئی شخص اس عہد کی رعایت رکھ کر اللہ تعالی کی طرف حرکت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو طاقت دے دیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ (411) پھر آپ نے بڑے درد سے فرمایا کہ: ”ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہئے کہ نری لفاظی پر نہ رہے بلکہ بیعت کے سچے منشا کو پورا کرنے والی ہو۔اندرونی تبدیلی کرنی چاہئے۔صرف مسائل سے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں کچھ فرق نہیں“۔فرمایا: اپنے نفس کی تبدیلی کے واسطے سعی کرو۔( کوشش کرو)۔نماز میں دعائیں مانگو۔صدقات خیرات سے اور دوسرے ہر طرح کے حیلہ سے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا۔(العنکبوت :70) میں شامل ہو جاؤ۔“ ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 188 ) پس یہ چند نصائح ہیں جو میں نے لی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کے روحانی اور اخلاقی معیار کو بلند کرنے کے لئے بے شمار نصائح فرمائی ہیں۔ہمیں انہیں سامنے رکھتے ہوئے اپنے میں اور غیر میں ایک واضح فرق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کے بغیر ہم بیعت کے مقصد کو پورا نہیں کر