خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 758
خطبات مسرور جلد 12 758 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء والے جنہوں نے جہاد اور فرقہ واریت کے نام پر ان شدت پسند گروہوں کو جنم دیا ہے اپنے قبلے درست کر کے اپنی نسلوں کو حقیقی اسلام کے بتانے والے بنیں اور ان شدت پسند گروہوں کی بیخ کنی کے لئے حقیقی اسلامی تعلیم کے ہتھیار کو استعمال کریں۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زمانے کے امام کی بات مان کر حقیقی اسلام پر خود بھی عمل پیرا ہوں اور دوسروں کو بھی عمل کروائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق نے ان مولویوں کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ: اگر اسلام کے مولوی اتفاق کر کے اس بات پر زور دیں کہ وہ وحشی مسلمانوں کے دلوں سے اس غلطی کو نکال دیں، یعنی شدت پسندی اور غلط قسم کے جہاد کی غلطی کو نکال دیں تو وہ بلا شبہ قوم پر ایک بڑا احسان کریں گے اور نہ صرف یہی بلکہ ان کے ذریعہ سے اسلام کی خوبیوں کی ایک بھاری جڑ لوگوں پر ظاہر ہو جائے گی اور وہ سب کراہتیں جو اپنی غلطیوں سے مذہبی مخالف اسلام کی نسبت رکھتے ہیں وہ جاتی رہیں گی۔“ ( گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 634) پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلام کی خوبصورت تعلیم کو پھیلانے کے لئے ایک درد ہے اور جس کی آپ نے ان غیر احمدی مولویوں سے بھی اپیل کی ہے کہ خدا کے لئے اس تعلیم کو جو شدت پسندی کی ہے اپنے ذہنوں سے نکالو اور محبت اور پیار کی تعلیم کو رائج کرو۔لیکن یہ بات سنے کو کب یہ مولوی نام نہاد مولوی تیار ہوتے ہیں۔ان کے مقاصد تو اب دین اسلام کے تقدس کو قائم کرنے کی بجائے سیاسی اور ذاتی مفاد کا حصول ہو گیا ہے۔جہاں تک میں نے دیکھا ہے اس واقعہ پر غم و غصے کا اظہار بھی علماء کی طرف سے پرزور طریقے پر نہیں ہوا۔شاید آج جمعہ پر بعض لوگوں نے کیا ہو۔اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ان کو ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ وَاتَّقُوا اللہ کہ اللہ سے ڈرو۔یقینا اللہ تعالیٰ اس بات سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔اور اللہ تعالیٰ ہر معاملے کی خبر صرف خبر رکھنے کے لئے نہیں رکھتا بلکہ ہر عمل انسان کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ظلم کرنے والے جو ہیں وہ یقینا اپنے بد انجام کو پہنچتے ہیں۔پس اگر اپنی دنیا و عاقبت سنوارنی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو سامنے رکھیں کہ دشمن سے بھی انصاف کا سلوک کریں اور پھر کلمہ گوؤوں کے بارے میں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ رُحَمَاءُ بَيْنَهُم (الفتح: 30)۔لیکن یہاں رُحَمَاءُ بَيْنَهُم تو دور کی بات ہے یہ تو اپنوں سے بھی دشمنوں سے