خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 742 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 742

خطبات مسرور جلد 12 742 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء بھیجا ہے۔مسلمانوں میں علماء کہلانے والے بھی اس کے ساتھ اس شور میں شامل ہو گئے۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب تو اس مقدمہ میں آپ کے خلاف شہادت دینے کے لئے بھی آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت بتا دیا تھا کہ ایک مولوی مقابل پر پیش ہو گا مگر اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کرے گا لیکن باوجود اس کے کہ الہام میں اس کی ذلت کے متعلق بتا دیا گیا تھا اور الہام کے پورا کرنے کے لئے ظاہری طور پر جائز کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے (لیکن ہوا کیا ؟ ) حضرت مصلح موعود کہتے ہیں ” مجھے خود مولوی فضل دین صاحب نے جو لا ہور کے ایک وکیل اور اس مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے پیروی کر رہے تھے سنایا کہ جب میں نے ایک سوال کرنا چاہا جس سے مولوی محمد حسین کی ذلت ہوتی تھی تو آپ نے مجھے اس سوال کے پیش کرنے سے منع کر دیا۔مقدمات میں گواہوں پر ایسے سوالات کئے جاتے ہیں کہ جن سے ظاہر ہو کہ وہ بے حیثیت آدمی ہے۔کسی آدمی کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے بعض سوال کئے جاتے ہیں۔”مولوی فضل دین صاحب نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ سوالات سنائے جو وہ مولوی محمد حسین صاحب پر کرنا چاہتے تھے تو ان میں سے ایک سوال بن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ایسے سوالات کو برداشت نہیں کر سکتے۔مولوی فضل دین صاحب نے کہا کہ اس سوال سے آپ کے خلاف مقدمہ کمزور ہو جائے گا اور اگر یہ نہ پوچھا جائے تو آپ کو مشکل پیش آئے گی اس لئے کہ گواہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک لیڈر ہونے کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے اور ضروری ہے کہ ثابت کیا جائے کہ وہ ایسا معزز نہیں۔مگر آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ہم اس سوال کی اجازت نہیں دے سکتے۔مولوی فضل دین احمدی نہیں تھے بلکہ حنفی تھے اور حنفیوں کے لیڈر تھے، انجمن نعمانیہ وغیرہ کے سرگرم کارکن تھے اس لئے مذہبی لحاظ سے تعصب رکھتے تھے۔مگر جب بھی کبھی غیر احمدیوں کی مجالس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر کوئی حملہ کیا جاتا تو وہ پر زور تردید کرتے اور کہتے کہ عقائد کا معاملہ الگ ہے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے اخلاق ایسے ہیں کہ ہمارے علماء میں سے کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اور اخلاق کے لحاظ سے میں نے ایسے ایسے مواقع پر ان کی آزمائش کی ہے کہ کوئی مولوی وہاں نہیں کھڑا ہو سکتا تھا جس مقام پر کہ آپ کھڑے تھے۔اب دیکھو! ادھر گواہ کے ذلیل ہونے کا الہام ہے، اُدھر اس کی گواہی آپ کو مجرم بناتی ہے۔مگر جو بات اس کی ( مجرم کی یا گواہ کی ) پوزیشن کو گرانے والی ہے۔(گواہ کی پوزیشن کو گرانے والی تھی ) وہ آپ پوچھنے ہی نہیں دیتے۔لیکن جس خدا نے قبل از وقت مولوی محمد حسین صاحب کی ذلت کی خبر آپ کو دی تھی اس