خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 741
خطبات مسرور جلد 12 741 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء مجسٹریٹ کہتا ہے کہ میرے نزدیک یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔بار بار اس نے یہی کہا اور آخر اس شخص کو عیسائیوں سے علیحدہ کر کے ، جس نے الزام لگایا تھا ” پولیس افسر کے ماتحت رکھا گیا اور وہ شخص رو پڑا اور اس نے بتا دیا کہ مجھے عیسائیوں نے سکھایا تھا اور خدا نے اس جھوٹے الزام کا قلع قمع کر دیا۔اس کی باقی تفصیل بعد میں میں آگے بیان کروں گا۔فرماتے ہیں کہ اسی طرح ہماری جماعت کے پر جوش مبلغ مولوی عمرالدین صاحب شملوی اپنا واقعہ سنایا کرتے ہیں کہ وہ بھی اسی معیار پر پرکھ کر احمدی ہوئے ہیں۔وہ سناتے ہیں کہ شملہ میں مولوی محمد حسین اور مولوی عبد الرحمن سیاح اور چند اور آدمی مشورہ کر رہے تھے کہ اب مرزا صاحب کے مقابلہ میں کیا طریق اختیار کرنا چاہئے۔مولوی عبد الرحمن صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب اعلان کر چکے ہیں کہ میں اب مباحثہ نہیں کروں گا۔ہم اشتہار مباحثہ دیتے ہیں اگر وہ مقابلہ پر کھڑے ہو جائیں گے تو ہم کہیں گے کہ انہوں نے جھوٹ بولا کہ پہلے تو اشتہار دیا تھا کہ ہم مباحثہ کسی سے نہ کریں گے اور اب مباحثہ کے لئے تیار ہو گئے اور اگر مباحثہ پر آمادہ نہ ہوئے تو ہم شور مچادیں گے کہ دیکھو مرزا صاحب ہار گئے۔اس پر مولوی عمر الدین صاحب نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔میں جاتا ہوں اور جا کر ان کو قتل کر دیتا ہوں۔مولوی محمد حسین نے کہا کہ لڑکے تجھے کیا معلوم یہ سب کچھ کیا جا چکا ہے۔مولوی عمرالدین صاحب کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جس کی خدا اتنی حفاظت کر رہا ہے وہ خدا ہی کی طرف سے ہو گا۔انہوں نے جب بیعت کر لی تو واپس جاتے ہوئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالہ کے سٹیشن پر ملے اور کہا تو کدھر؟ انہوں نے کہا کہ قادیان بیعت کر کے آیا ہوں۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ ” تو بہت شریر ہے، تیرے باپ کو لکھوں گا۔انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب یہ تو آپ ہی کے ذریعہ ہوا ہے جو کچھ ہوا ہے۔“ ( معیار صداقت، انوار العلوم جلد 6 صفحہ 61-62) پس مخالف مارنا چاہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو بچاتا ہے۔بلکہ دشمنی کرنے والا اگر نیک فطرت ہے تو وہ خود گھائل ہو کر جاتا ہے،خود اپنے دل کو بیچ کر جاتا ہے۔میں نے پہلے مقدمہ قتل کا جو بتایا تھا یہ مقدمہ قتل عیسائیوں کی طرف سے ہوا تھا اس کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کی ہے۔یہ مارٹن کلارک کا مقدمہ تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی بھی اس میں گواہ کے طور پر پیش ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کی ذلت کا سامان کیا۔حضرت مصلح موعودؓ یہ لکھتے ہیں بلکہ خطبے میں ذکر کیا ہے کہ مارٹن کلارک نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ میرے قتل کے لئے مرزا صاحب نے ایک آدمی