خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 730
خطبات مسرور جلد 12 730 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 دسمبر 2014ء یعنی وہ بات جو دل سے نکلتی ہے۔نشید لاجرم بر دل۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دل پر ضرور اثر کرتی ہے۔جو بات دل سے نکلے وہ دل پر ضرور اثر کرتی ہے۔فرماتے ہیں: ”انہوں نے ایک صداقت اور حق کو قبول کیا تھا اور پھر سچے دل سے قبول کیا تھا اس میں کوئی تکلف اور نمائیش نہ تھی ان کا صدق ہی ان کی کامیابیوں کا ذریعہ ٹھیرا۔یہ سچی بات ہے کہ صادق اپنے صدق کی تلوار ہی سے کام لیتا ہے۔آپ ( پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شکل و صورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا اور جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لئے ہوئے تھی۔اس میں ہی ایک کشش اور قوت تھی کہ وہ بے اختیار دلوں کو کھینچے لیتے تھے۔اور پھر آپ کی جماعت نے اطاعت الرسول کا وہ نمونہ دکھایا اور اس کی استقامت ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی کہ جو ان کو دیکھتا تھا وہ بے اختیار ہو کر ان کی طرف چلا آتا تھا۔( اس نمونے کی جو انہوں نے دکھایا اور پھر مستقل مزاجی سے دکھاتے چلے گئے اس کی ہی کرامت تھی کہ جس نے اس کو دیکھا وہ بے اختیار ان کی طرف کھینچا چلا آیا ) عرض صحابہ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے تیار ہو رہی ہے اسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی۔اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے اس لئے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور کھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو۔باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔غرض ہر رنگ میں ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔“ الحکم جلد 5 نمبر 5 مورخہ 10 فروری 1901 ، صفحہ 1-2 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 2 صفحہ 246-248) اس ایک اقتباس میں آپ علیہ السلام نے بہت سی باتوں کی وضاحت فرما دی۔پہلی بات تو یہ کہ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو اور پھر اولوا الامر یعنی اپنے سرداروں ، حکومت وغیرہ کی اطاعت کرو۔اس میں حکومتی نظام بھی آ جاتا ہے اور نظام جماعت بھی آجاتا ہے۔اور خلافت کی اطاعت تو ان دونوں سے اوپر ہے کیونکہ خلافت اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو ہی قائم کرتی ہے اور نظام جماعت خلافت کے تابع ہے اور یہ خلافت کی خوبصورتی ہے کہ بعض دفعہ اگر نظام جماعت کو چلانے کے لئے مقرر کردہ کارکنوں اور افراد جماعت کے تعلق میں کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے کوئی تنازعہ پیدا جائے تو خلیفہ وقت اسے دور کرتا ہے یہ اس کے فرائض میں شامل ہے۔یہاں یہ بھی واضح ہو کہ جیسا کہ میں نے کہا کہ خلافت کی اطاعت حکومت سے بھی اوپر ہے تو کسی قسم کی غلط فہمی 66