خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 728 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 728

خطبات مسرور جلد 12 728 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 دسمبر 2014ء قرآن میں حکم ہے۔اَطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ - اب اولی الامر کی اطاعت کا صاف حکم ہے۔اور اگر کوئی کہے کہ گورنمنٹ مِنكُم میں داخل نہیں۔تو یہ اُس کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو بات شریعت کے موافق کرتی ہے۔وہ مینگم میں داخل ہے۔جو ہماری مخالفت نہیں کرتا۔وہ ہم میں داخل ہے۔فرمایا: اشارۃ النص کے طور پر قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہئے۔یعنی صاف طور پر ظاہر ہے قرآن کریم سے بڑا واضح ہے کہ اشارۃ اس آیت میں ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہئے۔“ (رساله الانذار صفحہ 69 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 2 صفحہ 246) پس اس زمانے کے حکم اور عدل نے واضح فرما دیا کہ سوائے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں کی نفی کرنے والے احکامات کے عموماً دنیاوی احکامات میں ایک مؤمن کا کام ہے کہ وہ مکمل طور پر ملکی قوانین کی پابندی کرے۔اگر یہ سنہری اصول اس وقت کے مسلمان بھی اپنا لیں کہ حکومت وقت سے لڑنا نہیں ہے تو بہت سے ملکوں میں جو فساد کی صورتحال ہے اس میں بہت حد تک سکون آ سکتا ہے۔بہر حال اس وقت میں اس بحث میں پڑے بغیر کہ حکمرانوں کا کتنا قصور ہے اور فساد پیدا کر نیوالے گروہوں کا کتنا قصور ہے اور اس وجہ سے مسلم امتہ کس حد تک متاثر ہو رہی ہے، میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھوں گا۔کافی لمبا اقتباس ہے جو اطاعت کے معیار، اطاعت کی اہمیت ، اطاعت نہ کرنے کے نقصانات اور اسلام کے پھیلنے میں اطاعت کے کردار وغیرہ پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔اس زمانے میں احمدی ہی اس بات کا صحیح اظہار کر سکتے ہیں یا اطاعت کا صحیح اظہار کر سکتے ہیں اور دنیا کو دکھا سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے وقار کو کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے۔بہر حال اپنے عملی نمونے پہلے ہیں پہلے اپنے اطاعت کے معیاروں کو بلند کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : یعنی اللہ اور اس کے رسول اور ملوک کی اطاعت اختیار کرو۔اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی