خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 724
خطبات مسرور جلد 12 724 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 نومبر 2014ء ہم نے اپنے ہر قول و فعل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کا عہد کیا ہے۔ہم نے سر اور ٹیسر ہنگی اور آسائش میں خدا تعالیٰ سے ہی مدد مانگنے اور غیر اللہ سے بیزاری کا عہد کیا ہے۔ہمیں اپنے عہد نبھانے کے لئے کس قدر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے مضمون کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہم نے ڈوبتے ہوئے دہریہ کی طرح خدا تعالیٰ کو نہیں پکارنا۔ہم نے اعلیٰ معراج حاصل کرنے والے مومنین کی طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت اور استعانت کا ادراک حاصل کر کے اس پر عمل کرنا ہے۔جس کا دعوی ہے کہ ہماری ساری قوت ہماری ساری طاقت اور ہمارا مکمل سہارا خدا تعالیٰ کے سامنے خدا تعالیٰ کے آگے جھک جانے میں ہے۔ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ ہم نے اس کے لئے کیا کرنا ہے اور کیا کر رہے ہیں۔کیا ہماری عبادتیں اور ہماری خدا تعالیٰ سے مدد کی پکار کا وہ معیار ہے جو خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق ہے؟ یا روزانہ بتیس مرتبہ فرض نمازوں میں طوطے کی طرح اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کو دھراتے ہیں اور بس کام ختم ہو جاتا ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم کمزور ہیں اور ہمارا دشمن بہت طاقتور ہے۔ہمارے پاس دشمن کے مقابلے کے لئے نہ کوئی دنیاوی طاقت ہے، نہ وسائل ہیں، نہ کسی بھی قسم کا ذریعہ ہے۔پس ایسے حالات میں ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں اور إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین کی روح کو سمجھتے ہوئے خدا تعالیٰ کے در کے ہو جائیں۔آج دنیا میں شیطانی حملے کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔ہر جگہ ہمارے راستے میں مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں۔مسلمان کہلانے والے بھی ہماری دشمنی میں بڑھ رہے ہیں کہ ہم نے زمانے کے امام کو کیوں مانا اور غیر بھی حسد میں بڑھ رہے ہیں کہ جماعت دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچنے والی بن رہی ہے اور اس حسد کی ایک ہلکی سی جھلک گزشتہ دنوں جرمنی میں مختلف ذرائع سے میڈیا کی جماعت مخالفت میں بھی نظر آتی ہے۔یقینا یہ حسد اور مخالفت کی آگیں اپنی آگ میں خود جل جائیں گی۔انشاء اللہ۔لیکن ہمیں اپنے فرائض کو ادا کرنا نہیں بھولنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی مدد کے طلب کرنے سے کبھی ہمیں غافل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر ہم دشمن سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے اور یہ طاقت اتنی بڑی ہے کہ اس کا کوئی دنیا وی طاقت مقابلہ نہیں کر سکتی۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تو پھر وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔کوئی دنیاوی طاقت اس کی کامیابی کو روک نہیں سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ کی مدد بہت وسیع ہے اور اس کی طاقتیں نہ ختم ہونے والی ہیں۔نہ اللہ تعالیٰ کی ذات محدود ہے، نہ اس کی صفات محدود ہیں۔پس اس کے آگے جھکنا ہر احمدی کا کام ہے اور اس سے مدد چاہنا ہی ہر احمدی کا کام ہے۔یہ کام صرف پاکستان کے احمدیوں کا نہیں ہے کہ وہ تو بہت زیادہ