خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 710 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 710

خطبات مسرور جلد 12 710 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء جماعت میں شامل ہورہے ہیں۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔” یا درکھو کہ ان معجزات اور پیشگوئیوں کی نظیر جو میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے اور ظاہر ہو رہے ہیں کمیت اور کیفیت اور ثبوت کے لحاظ سے ہرگز پیش نہ کر سکو گے خواہ تلاش کرتے کرتے مر بھی جاؤ۔“ (نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 462) ( بلکہ اب تو خدا تعالیٰ کی فعلی شہادتیں بھی ایک ایسے نشانات بن چکے ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور ہر روز ہم دیکھتے ہیں۔) ایک نو مسلم نے آ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بڑی دلیری سے نشان مانگا کہ کیا نشان ہے مجھے دکھا ئیں ، اپنی ماموریت کا بتا ئیں۔آپ نے فرمایا کہ ہر ایک مامور کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ دل میں ڈالا جاتا ہے وہ اس کی مخالفت نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور یہی بالکل سچ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو دنیا میں مامور کر کے بھیجتا ہے تو اس کی تائید میں خارق عادت نشان بھی ظاہر کرتا ہے۔چنانچہ اس جگہ بھی اس نے میری تائید کے لئے بہت سے نشان ظاہر کئے ہیں جن کو لاکھوں انسانوں نے دیکھا ہے اور وہ اس پر گواہ ہیں تاہم میں اپنے خدا پر کامل یقین رکھتا ہوں کہ اس نے انہیں نشانوں پر حصر نہیں کیا۔(یہی کافی نہیں ہو گئے ) اور آئندہ اس سلسلہ کو بند نہیں کیا۔وقتاً فوقتاً وہ اپنے ارادہ سے جب چاہتا ہے نشان ظاہر کرتا ہے۔ایک طالب حق کے لئے وہ نشان تھوڑے نہیں ہیں مگر اس پر بھی اگر دل شہادت نہ دے۔( یعنی جو نشانات ہو چکے ہیں فرمایا کہ وہ تھوڑے نہیں ہیں لیکن اگر اس پر بھی دل شہادت نہیں دیتا، مانتا نہیں ہے کہ ایک شخص واقعی طالب حق ہے اور صدق نیت سے اگر دل سے اس پر بھی شہادت نہ دے ) کہ ایک شخص واقعی طالب حق ہے اور صدق نیت سے وہ نشان کا خواہشمند ہے تو ہم اس کے لئے توجہ کر سکتے ہیں۔(اور تم صدق دل سے یہ سمجھتے ہو کہ حق کو تم نے ماننا ہے تو پھر بتاؤ۔فرمایا کہ ہم توجہ کر سکتے ہیں۔اس کے لئے دعا کریں گے ) اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی امر ظاہر کر دے گا۔لیکن اگر یہ بات نہ ہو اور خدا تعالیٰ کے پہلے نشانوں کی بے قدری کی جاوے اور انہیں نا کافی سمجھا جاوے تو توجہ کے لئے جوش پیدا نہیں ہوتا اور ظہور نشان کے لئے ضروری ہے کہ اس میں توجہ کی جاوے اور اقبال الی اللہ کے لئے جوش ڈالا جاوے۔( مطلب اگر ان نشانوں کی بے قدری کر رہے ہو۔سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے تو پھر نہ تمہارے لئے نشان ظاہر ہوگا، نہ تمہارے لئے نشان ظاہر ہونے کے لئے کوئی دعا ہو