خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 704
خطبات مسرور جلد 12 704 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء میں لپیٹا گیا۔2۔47 برس کی عمر - إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - 3 - إِنَّ الْمَنَايَا لَا تَطِيشُ سهَامُهَا۔یعنی موتوں کے تیر خطا نہیں جاتے۔جب اس پر بھی دعا کی گئی تب الہام ہوا۔4۔یا یها النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ - 5 - تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا۔یعنی اے لوگو! تم اس خدا کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے یعنی اسی کو اپنے کاموں کا کارساز سمجھو اور اس پر تو گل رکھو۔کیا تم دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو۔اس میں یہ اشارہ تھا کہ کسی کے وجود کو ایسا ضروری سمجھنا کہ اس کے مرنے سے نہایت درجہ حرج ہو گا ایک شرک ہے اور اس کی زندگی پر نہایت درجہ زور لگا دینا ایک قسم کی پرستش ہے۔اس کے بعد میں خاموش ہو گیا اور سمجھ لیا کہ اس کی موت قطعی ہے۔چنانچہ وہ گیارہ اکتوبر 1905ء کو بروز چارشنبه بوقت عصر اس فانی دنیا سے گزر گئے۔وہ درد جو اُن کے لئے دعا کرنے میں میرے دل پر وارد ہوا تھا خدا نے اس کو فراموش نہ کیا اور چاہا کہ اس ناکامی کا ایک اور کامیابی کے ساتھ تدارک کرے۔اس لئے اس نشان کے لئے سیٹھ عبدالرحمن کو منتخب کر لیا۔اگر چہ خدا نے عبد الکریم کو ہم سے لے لیا تو عبدالرحمن کو دوبارہ ہمیں دے دیا۔وہی مرض ان کے دامنگیر ہوگئی آخر وہ اسی بندہ کی دعاؤں سے شفایاب ہو گئے۔فالحمد للہ علی ذالک۔(فرماتے ہیں کہ ) میرا صد ہا مرتبہ کا تجربہ ہے (سینکڑوں مرتبہ تجربہ کیا ہے ) کہ خدا ایسا کریم ورحیم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا منظور کر لیتا ہے ( یہاں دعا کی جو روح ہے، جو فلاسفی ہے اس کا بھی پتا لگ گیا۔بعض لوگ کہتے ہیں جی ہماری دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔تو نبیوں کی بھی دعا ئیں بعض دفعہ اگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے تو قبول نہیں ہوتیں لیکن اس کے مقابلے میں دوسری دعا قبول ہو جاتی ہے۔تو فرمایا کہ ) ایک دعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا منظور کر لیتا ہے جو اس کے مثل ہوتی ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا تَأْتِ بِخَيْرٍ منْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيرٌ (البقرة: 107)۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 339-340) یعنی جس کسی نشان کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسا نشان ہم اس دنیا میں لے آتے ہیں۔کیا تو جانتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہرامر پر جس کا وہ ارادہ کرے پورا قادر ہے۔اب یہ آیت غیر احمدی تو اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ اس سے قرآن کریم کی بعض آیات منسوخ کی گئی ہیں حالانکہ اس کے بڑے وسیع معنی ہیں، مختلف معنی ہیں۔آپ یہاں بھی اس کو چسپاں کر رہے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ جب کوئی نشان بھلا دیتے ہیں تو کوئی اور نشان اس کے مقابلے میں آجاتا ہے۔اگر ایک نشان