خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 703
خطبات مسرور جلد 12 703 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء (آنکھوں کی بیماری ہو جاتی ہے ) اور یا کار بنکل یعنی سرطان کا پھوڑا نکلتا ہے جو مہلک ہوتا ہے۔سواسی وقت نزول الماء کی نسبت مجھے الہام ہوا۔( یعنی آنکھوں کی بیماری کے متعلق الہام ہوا کہ ) نَزَلَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى تَلْبِ الْعَيْن وَعَلَى الْأُخْرَيَيْنِ۔یعنی تین عضو پر رحمت نازل کی گئی آنکھ اور دو اور عضو پر۔اور پھر جب کار بنکل کا خیال میرے دل میں آیا تو الہام ہوا۔اَلسّلامُ عَلَيْكُمْ۔سو ایک عمر گزری کہ میں ان بلاؤں سے محفوظ ہوں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 376-377) یہاں ذیا بیطس یعنی شوگر کی بیماری کا ذکر ہوا۔گزشتہ دنوں ایک عرب احمدی نے خط لکھ کر پوچھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شوگر تھی تو پھر اتنے زیادہ روزے کیوں رکھے۔یہ جو حضرت مسیح موعود اپنی بیماری کا ذکر فرمارہے ہیں یہ 1907ء میں فرمایا اور جہاں روزوں کا ذکر ہے وہاں دعوے سے بہت پہلے جوانی میں روزوں کا ذکر ہے۔بلکہ آپ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ میں نے جو لگا تار روزے رکھے تھے وہ جوانی میں رکھے تھے اور چالیس سال کے بعد تو ویسے بھی انسان کمزور ہو جاتا ہے۔اتنے میں رکھ نہیں سکتا تھا۔اور اس وقت جو میری حالت تھی اس میں مجھ میں اتنی طاقت تھی کہ اگر میں چاہتا تو چار سال تک بھی روزے رکھ سکتا تھا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 257) تو بہر حال یہ جو شوگر ہے، یہ شوگر بعد میں شروع ہوئی۔اور یہ جوانی کی بات ہے جب آپ نے لگا تار چھ مہینے روزے رکھے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی بیماری کے بارے میں ایک ( جگہ ) بیان فرماتے ہیں۔ان کا ذکر گزشتہ خطبے میں حضرت مصلح موعودؓ کے حوالے سے ہوا تھا کہ جب ان کی وفات ہوئی ہے تو حضرت مصلح موعود کو بڑا صدمہ پہنچا تھا۔بہر حال ان کا ایک بڑا مقام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی بیماری کے دوران ان کے لئے دعا بھی کرتے رہے اور اسی بارے میں ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : سال گزشتہ میں یعنی 11 / اکتوبر 1905ء کو ( بروز چارشنبہ ) ہمارے ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اسی بیماری کا ر بنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے۔ان کے لئے بھی میں نے بہت دعا کی تھی مگر ایک بھی الہام ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا بلکہ بار بار یہ الہام ہوتے رہے کہ 1 کفن