خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 702 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 702

خطبات مسرور جلد 12 702 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء رونق پیدا کر دی۔( کام ان کے بحال ہو گئے اور بڑی ہی کشائش پیدا ہو گئی۔فرمایا کہ ) اور ایسے اسباب غیب سے پیدا ہوئے کہ فتوحات مالی شروع ہو گئیں ( بے انتہا مالی کشائش پیدا 66 ہوئی ) اور پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ بنا بنا یا کام ٹوٹ گیا۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 259 260 ) الہام کے مطابق پہلے تو کاروبار میں ترقی ہوئی اور پھر کچھ عرصے کے بعد آہستہ آہستہ اس میں خرابی پیدا ہونی شروع ہوئی اور پھر کاروبار خراب ہو گیا۔پھر آپ ایک جگہ اپنے بارے میں ہی فرماتے ہیں کہ : ” مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ایک شدید دردسر جس سے میں نہایت بیتاب ہو جاتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے ( بڑی شدید سر درد ہوتی تھی۔فرمایا اور یہ مرض قریباً پچیس ۲۵ برس تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہو گیا ( یعنی چکروں کی تکلیف بھی ہو گئی) اور طبیبوں نے لکھا کہ ان عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔( دورے پڑتے ہیں مرگی کے۔فرماتے ہیں کہ ) چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر قریباً دوماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گئے ( یعنی مرگی کے دورے ان کو پڑنے لگ گئے ) اور اسی سے ان کا انتقال ہو گیا۔لہذا میں دعا کرتا رہا کہ خدا تعالیٰ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے۔ایک دفعہ عالم کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ رنگ چار پائے کی شکل پر جو بھیٹر کے قد کی مانند اس کا قد تھا (سیاہ رنگ کی بلا تھی۔جانور کی شکل کی طرح تھی اور بھیڑ کے مطابق قد تھا۔) اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی صرع ہے۔( یعنی مرگی کی بیماری ہے )۔تب میں نے اپنا داہنا ہاتھ زور سے اس کے سینہ پر مارا اور کہا کہ دُور ہو تیرا مجھ میں حصہ نہیں۔تب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے رہے اور وہ دردشدید بالکل جاتی رہی۔صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے ( یعنی کبھی کبھی چکروں کی تکلیف ہوتی ہے ) تا دوز رد چادروں کی پیشگوئی میں خلل نہ آوے۔(مسیح موعود کے بارے میں یہ بھی پیشگوئی ہے کہ وہ دوزرد چادروں میں ہو گا اور دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں۔پہلی تو یہی فرمائی۔چکروں کی تکلیف۔فرمایا ' دوسری مرض ذیا بیطس تخمینا ہیں برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے۔جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے اور ابھی تک ہیں دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے ( یعنی ٹیسٹ کرنے سے ) بول میں شکر پائی گئی۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ ڈاکٹروں کے تجربہ کے رو سے انجام ذیا بیطس کا یا تو نزول الماء ہوتا ہے