خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 701 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 701

خطبات مسرور جلد 12 701 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء طرف یہ خط لکھا کہ اس مضمون کا خط آپ روانہ کریں گے۔دوسرے دن وہ خط آ گیا اور جب میرا خط ان کو ملا تو وہ دریائے حیرت میں ڈوب گئے کہ یہ غیب کی خبر کس طرح مل گئی کیونکہ میرے اس راز کی خبر ( انہوں نے یہ سوچا کہ ان کے اس راز کی خبر ) کسی کو نہ تھی۔اور ان کا اعتقاد اس قدر بڑھا کہ وہ محبت اور ارادت میں فنا ہو گئے اور انہوں نے ایک چھوٹی سی یادداشت کی کتاب میں وہ دونوں نشان متذکرہ بالا درج کر دیئے اور ہمیشہ ان کو پاس رکھتے تھے۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ) جب میں پٹیالہ میں گیا اور جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے۔جب وزیر سید محمد حسن صاحب کی ملاقات ہوئی تو اتفاقاً سلسلہ گفتگو میں وزیر صاحب اور نواب صاحب کا میرے خوارق اور نشانوں کے بارہ میں کچھ تذکرہ ہوا۔تب نواب صاحب مرحوم نے ایک چھوٹی سی کتاب اپنی جیب میں سے نکال کر وزیر صاحب کے سامنے پیش کر دی اور کہا کہ میرے ایمان اور ارادت کا باعث تو یہ دو پیشگوئیاں ہیں جو اس کتاب میں درج ہیں۔اور جب کچھ مدت کے بعد ان کی موت سے ایک دن پہلے میں ان کی عیادت کے لئے لدھیانہ میں ان کے مکان پر گیا تو وہ بواسیر کے مرض سے بہت کمزور ہورہے تھے۔اور بہت خون آرہا تھا۔اس حالت میں وہ اٹھ بیٹھے اور اپنے اندر کے کمرہ میں چلے گئے اور وہی چھوٹی کتاب لے آئے اور کہا کہ یہ میں نے بطور حرز جان رکھی ہے اور اس کے دیکھنے سے میں تسلی پاتا ہوں اور وہ مقام دکھلائے جہاں دونوں پیشگوئیاں لکھی ہوئی تھیں۔پھر جب قریب نصف کے یا زیادہ رات گزری تو وہ فوت ہو گئے“۔یہ نشان اب بھی ہیں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ” میں یقین رکھتا ہوں کہ اب تک یہ باتیں جو انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھی تھیں) ان کے کتب خانہ میں وہ کتاب ہوگی۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 257-258) پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” چند سال ہوئے ہیں کہ سیٹھ عبد الرحمن صاحب تاجر مدر اس جو اول درجہ کے مخلص جماعت میں سے ہیں قادیان میں آئے تھے اور ان کی تجارت کے امور میں کوئی تفرقہ اور پریشانی واقع ہو گئی تھی۔انہوں نے دعا کے لئے درخواست کی۔تب یہ الہام ہوا جو ذیل میں درج ہے۔قادر ہے وہ بار گہ ٹوٹا کام بنا دے۔بنا بنا یا تو ڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے۔اس الہامی عبارت کا یہ مطلب تھا کہ خدا تعالیٰ ٹوٹا ہوا کام بنا دے گا۔مگر پھر کچھ عرصہ کے بعد بنا بنا یا توڑ دے گا۔( فرماتے ہیں کہ ) چنانچہ یہ الہام قادیان میں ہی سیٹھ صاحب کو سنایا گیا اور تھوڑے دن ہی گزرے تھے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے تجارتی امور میں