خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 699
خطبات مسرور جلد 12 699 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء صاحبزادی محترمہ نسرین شاہ صاحبہ سے کروایا۔یہ جو شبوطی صاحب کا سسرال ہے یہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع اور ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے خاندان میں سے ہے۔مرحوم کے بارے میں ان کے صاحبزادے نے لکھا کہ جامعہ کے تمام طلباء یہ بتا یا کرتے تھے کہ وہ نماز فجر مسجد محمود میں ادا کرتے تھے جو تحریک جدید کے کوارٹروں میں ہے لیکن شبوطی صاحب مسجد مبارک جاکے نماز ادا کیا کرتے تھے۔اور پھر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مل کے سیر پہ جاتے تھے۔ان کے ساتھیوں میں اس زمانے کے جامعہ کے طلباء میں عثمان چینی صاحب ، و باب آدم صاحب وغیرہ شامل ہیں۔مرحوم نے ستر کی دہائی کے ابتدائی عرصے تک یمن میں بطور مبلغ کام کیا لیکن جب یمنی حکومت انگریزی حکومت سے آزاد ہوئی تو یمن میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت آئی جس نے ہر قسم کی مذہبی سرگرمیوں پر اور تبلیغ پر پابندی لگادی۔اس وجہ سے جماعت نے آپ کو جماعتی سرگرمیاں منقطع کرنے کی ہدایت کی۔تاہم آپ جماعت کے انتظامی اور مالی امور سرانجام دیتے رہے۔جمعہ اور عیدین کی نمازیں آپ عدن یونیورسٹی کی مسجد میں پڑھایا کرتے تھے۔یونیورسٹی کی یہ مسجد ایک احمدی کی ملکیت تھی۔ان کی وفات کے بعد ان کے اہل خانہ نے مسجد واپس ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو شبوطی صاحب مرحوم نے مسجد تو ان کے خاندان کو دے دی جو احمدی نہیں تھے۔اور اپنا گھر مسجد کے لئے پیش کر دیا۔پھر وہاں نمازیں ہوتی رہیں۔آپ جماعت سے کوئی خرچ نہیں لیا کرتے تھے۔ساری جماعتی ضروریات اپنی جیب سے پوری کیا کرتے تھے۔جماعتی بجٹ سے کچھ نہ لیتے۔سارا چندہ بغیر کسی کٹوتی کے مرکز بھجوا دیتے بلکہ ابتدائی مبلغین کو ربوہ میں پلاٹ الاٹ ہوئے تھے تو مرحوم شبوطی صاحب نے جو پلاٹ ان کو الاٹ ہوا وہ بھی جماعت کو دے دیا تھا۔جس طرح میں نے وہاب آدم صاحب کے بارے میں بتایا تھا کہ انہوں نے بھی جماعت کو دے دیا تھا۔مرحوم نے اپنی اولاد میں خلافت اور جماعت کی محبت پیدا کی۔بہت محبت کرنے والے انسان تھے۔یہاں بھی ایک دفعہ آئے ہیں۔مجھے ملے ہیں۔اپنے رشتہ داروں سے خواہ وہ احمدی ہوں یا غیر احمدی صلہ رحمی کرنے والے تھے۔باقاعدہ ان سے ملاقات میں تعلق رکھتے تھے۔پسماندگان میں سیدہ نسرین شاہ صاحبہ کے علاوہ پانچ بیٹے اور بارہ پوتے پوتیاں یادگار چھوڑے ہیں۔ان کے ایک بیٹے کینیڈا میں ہیں اور ناصر احمد صاحب یہاں یو کے میں ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 05 دسمبر 2014 ء تا 11 دسمبر 2014 ءجلد 21 شماره 49 صفحہ 05 تا09)