خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 61
خطبات مسرور جلد 12 61 خطبه جمعه فرموده مورخہ 31 جنوری 2014ء جب وہ باتیں یا اعمال جو صالح اعمال ہیں ، اُن کی طرف توجہ دلائی جارہی ہو اور کوئی شخص اس لئے کر رہا ہو کہ سزا سے بچ جاؤں یا خلیفہ وقت کی ناراضگی سے بچ جاؤں یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جاؤں تو آہستہ آہستہ دل میں ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور ایسے لوگ برائیوں کو چھوڑ کر خوشی سے نیک اعمال بجالانے والے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ نیک اعمال بجالانے کی عادت ڈالنے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں۔بغیر ان ذرائع کو اختیار کئے اصلاحِ اعمال میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس ان ذرائع کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔یعنی ایمان کا پیدا کرنا، علم صحیح کا پیدا کرنا، ان باتوں کا تو گزشتہ خطبہ میں ذکر ہو گیا تھا۔اور قوت عملی پیدا کرنے کے ضمن میں نگرانی کرنا اور جبر کرنا ، جن کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے۔یہ چار چیزیں ہیں جن کے بغیر اصلاح مشکل ہے۔جب ہم گہرائی میں جائزہ لیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ دنیا میں ایک طبقہ ایسا ہے جو ایمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتا۔یعنی وہ معیار نہیں رکھتا جو اصلاح عمل کے لئے ایک انسان میں ہونا ضروری ہے۔ایسے لوگوں کے دلوں میں اگر قوت ایمانیہ بھر دی جائے تو ان کے اعمال درست ہو جاتے ہیں۔اور ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو عدم علم کی وجہ سے گناہوں کا شکار ہوتا ہے۔اس کے لئے صحیح علم کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ایک طبقہ جو نیک اعمال بجالانے کے لئے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔یہ تین قسم کے لوگ ہیں۔اور اس کی احتیاج جو ہے وہ دو طرح سے پوری کی جاتی ہے۔یا اُس کی بیرونی مدد دو طرح سے ہوگی۔ایک تو نگرانی کر کے، جس کی میں نے ابھی تفصیل بیان کی ہے کہ نگرانی کی جائے تو بدیاں چھوٹ جاتی ہیں اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے لیکن وہ طبقہ جو بالکل ہی گرا ہوا ہو، جو نگرانی سے بھی باز آنے والا نہ ہو، اُسے جب تک سزا نہ دی جائے اس کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔پس ان چاروں ذرائع کو جماعت کی اصلاح کے لئے بھی اختیار کرنا ضروری ہے۔اور ہر ایک کی بیماری کا علاج اُس کی بیماری کی نوعیت کے لحاظ سے کرنا ضروری ہے۔یہ بات یادرکھنا ضروری ہے کہ جس زمانے میں مذہب کے پاس نہ حکومت ہو، نہ تلوار اس زمانے میں یہ چاروں علاج ضروری ہوتے ہیں۔پس جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں ذکر ہو چکا ہے کہ پہلے علاج کے طور پر تربیت کر کے ایمان میں مضبوطی پیدا کرنا ضروری ہے۔اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات، آپ کی وحی، آپ کے تعلق باللہ اور آپ کے ذریعہ سے آپ کے مانے والوں میں روحانی انقلاب کا ذکر کیا جائے۔